حیدرآباد (دکن فائلز) دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئر عہدیداران کے خلاف ایک غیر ملکی شہری کے قیام کی اطلاع متعلقہ حکام کو نہ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق فلپائن کے شہری محمد آرون ساریپ کے 30 نومبر سے 2 دسمبر 2025 تک مدرسہ کیمپس میں قیام کے دوران فارنرز رجسٹریشن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔
حسن گنج تھانہ کے سب انسپکٹر سریندر سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ ایف آئی آر جمعہ، 12 دسمبر کو درج کی گئی، جس میں دارالعلوم کے پرنسپل، سب رجسٹرار، ایک ہاسٹل وارڈن اور گیٹ پر تعینات سکیورٹی اہلکار کو نامزد کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے غیر ملکی شہری کی آمد اور قیام کے بارے میں نہ تو مقامی پولیس کو مطلع کیا اور نہ ہی فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کو آگاہ کیا۔
پولیس کے مطابق محمد آرون ساریپ سیاحتی ویزا پر بھارت آئے تھے اور انہوں نے دارالعلوم کے مہدالعلی ہاسٹل میں قیام کیا، جہاں وہ ایک اور فلپائنی طالب علم محمد یاسر سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی شہری کے قیام سے متعلق لازمی فارم-سی جمع نہیں کرایا گیا اور نہ ہی ہاسٹل کے گیٹ رجسٹر میں ان کی آمد کا اندراج کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایف آر آر او لکھنؤ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ادارے کو 14 اکتوبر 2024 کو ہی ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں غیر ملکی طلبہ یا شہریوں سے متعلق کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق ساریپ نے 3 دسمبر کو دہلی میں تبلیغی جماعت کے ایک اجتماع میں بھی شرکت کی، حالانکہ وہ سیاحتی ویزا پر بھارت آئے تھے۔ وہ 28 دسمبر تک بھارت میں قیام کے مجاز تھے، تاہم مبینہ طور پر ویزا خلاف ورزی کے خدشے کے پیش نظر 5 دسمبر کو ملک چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
پولیس نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی انتظامیہ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعات 318(4) (دھوکہ دہی) اور 61 (مجرمانہ سازش)، رجسٹریشن آف فارنرز ایکٹ 1939 کی دفعہ 5 اور فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 7(1) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ادھر اس معاملے پر ممتاز علمائے کرام اور دینی حلقوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ علما نے انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ اس سلسلے میں احتجاج بھی کیا اور کہا کہ تعلیمی و دینی اداروں کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے۔


