پجاری کے قتل کا الزام! پولیس انکاونٹر میں مسلم نوجوان ہلاک

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں ہندو پجاری میلان داس کے قتل کیس میں مطلوب ایک لاکھ روپے انعامی ملزم اسرائیل پولیس انکاونٹر میں جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم 9 جون کو پیش آنے والے قتل کے الزام کے بعد فرار تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر تلاش جاری تھی۔

پولیس کے بیان کے مطابق بنگارماؤ پولیس اور اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کو اطلاع ملی تھی کہ اسرائیل آگرہ ایکسپریس وے کے تاج پور انڈر پاس کے قریب موجود ہے۔ پولیس ٹیم جب موقع پر پہنچی اور اسے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا تو اس نے مبینہ طور پر فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک گولی سب انسپکٹر نیوٹن کمار سنگھ کی بلٹ پروف جیکٹ سے ٹکرائی جبکہ دوسری گولی کانسٹیبل وکاس بھدوریا کے ہاتھ میں لگی۔ جوابی کارروائی میں اسرائیل شدید زخمی ہوگیا اور بعد میں بنگارماؤ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جائے وقوعہ سے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو، ایک دیسی ساختہ پستول اور کارتوس برآمد کیے گئے ہیں۔ میلان داس قتل کیس میں نامزد پانچ ملزمان میں سے تین کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا تھا جبکہ اسرائیل اور ایک اور ملزم مفرور تھے۔

دوسری جانب اس پولیس انکاونٹر نے ایک بار پھر اتر پردیش میں انکاؤنٹر پالیسی پر بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں عدالتی عمل اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کیے جانے کے خدشات موجود رہتے ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بھی مبینہ انکاؤنٹر کلنگز اور بعض سخت قوانین کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو برسوں میں ریاست بھر میں 17 ہزار سے زائد پولیس مقابلے ہوئے ہیں جن میں 289 مبینہ جرائم پیشہ افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار یا زخمی ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں