حیدرآباد (دکن فائلز) ایرانی حکام نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، الوداعی تقریبات اور تدفین کے تفصیلی شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دعائیہ اور تعزیتی تقریبات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا جبکہ تدفین 9 جولائی کو مشہد مقدس میں روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں انجام دی جائے گی۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو تہران میں عوامی سطح پر الوداعی اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جن میں ملک بھر سے آنے والے لاکھوں سوگوار شرکت کریں گے۔ ان تقریبات کے دوران عوام کو مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 6 جولائی کو تہران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور بعد ازاں ایک عظیم الشان جنازہ جلوس نکالا جائے گا۔ اس کے بعد 7 جولائی کو مقدس شہر قم میں بھی خصوصی دعائیہ تقریب اور نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا جہاں مذہبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق مختلف شہروں میں عوام کو آخری دیدار کا موقع دینے کے بعد 9 جولائی کو مرحوم رہنما کے جسد خاکی کو مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں تدفین عمل میں آئے گی۔ مشہد ایران کا ایک اہم مذہبی اور روحانی مرکز ہے اور ہر سال لاکھوں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں ایران کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔ اسی پیش نظر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام پروگرام پُرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوسکیں۔
واضح رہے کہ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔


