عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے سپریم کورٹ کا انکار، دیگر پانچ ملزمان کو سخت شرائط پر رہائی، فیصلے پر ماہرین کی جانب سے تنقید

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے پیر کے روز فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ ’’بڑی سازش‘‘ کے مقدمے میں زیرِ حراست کارکنان عمر خالداور شرجیل امامکو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ دونوں ملزمان کا کردار دیگر ملزمان کے مقابلے میں ’’معیاری طور پر مختلف‘‘ ہے اور اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنا مناسب نہیں۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے پر قانون ماہرین اور دانشوران نے سخت تنقید کی ہے۔ وہیں یو اے پیی اے کے غلط استعمال پر بھی تشوییش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے تاہم اسی مقدمے میں نامزد گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفأ الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمدکو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان کی رہائی الزامات کی نوعیت میں کسی قسم کی نرمی نہیں سمجھی جائے گی اور شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں ٹرائل کورٹ ضمانت منسوخ کرنے کی مجاز ہوگی۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے اس حکم کے خلاف دائر خصوصی اجازت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلے کے بعد سنایا، جس میں ہائی کورٹ نے تمام ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ کا موقف تھا کہ ’’بلا روک ٹوک احتجاج‘‘ عوامی نظم و نسق کو متاثر کر سکتا ہے اور ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ایک منظم سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں فسادات کے دوران 53 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

فیصلہ سناتے ہوئے بنچ نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے) ایک خصوصی قانون ہے، جس کے تحت ضمانت کے لیے زیادہ سخت معیار مقرر کیا گیا ہے۔ عدالت نے یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت پر غور کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ استغاثہ کا مواد بادی النظر میں الزامات کو درست ثابت کرتا ہے یا نہیں، اور ہر ملزم کے کردار کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکلاء نے طویل عرصے سے زیرِ حراست ہونے کو ’’قبل از وقت سزا‘‘ کے مترادف قرار دیا، جبکہ دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے دلیل دی کہ مبینہ تقاریر اور اقدامات نے ضروری سپلائیز کو متاثر کیا اور یہ سب ایک منظم منصوبے کا حصہ تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں اس بات پر زور دیا کہ عمر خالد اور شرجیل امامکے خلاف موجود مواد انہیں دیگر ملزمان سے ممتاز کرتا ہے، اسی لیے ان کے معاملے میں ضمانت کی قانونی حد پوری نہیں ہوتی۔ دوسری جانب، باقی پانچ ملزمان کے کردار کو نسبتاً مختلف پاتے ہوئے عدالت نے انہیں مشروط رہائی دی۔

یہ فیصلہ ایک بار پھر یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے سخت قانونی معیار اور ہر ملزم کے انفرادی کردار کے عدالتی جائزے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں