ماہِ شعبان اسلامی تقویم کا ایک نہایت بابرکت مہینہ ہے، اور اس کی پندرہویں شب کو شبِ برأت کہا جاتا ہے۔ لفظ برأت کے معنی ہیں نجات، یعنی وہ رات جس میں اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی رحمت سے بے شمار گناہ گار بندوں کو گناہوں سے نجات عطا فرماتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں اسے لیلۃٌ مبارکۃ کہا گیا ہے اور احادیثِ نبویہ میں لیلۃ النصف من شعبان کے نام سے اس کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور متعدد صحابۂ کرامؓ سے مروی احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شبِ برأت غیر معمولی فضیلت کی حامل رات ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنی کثرت سے نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھا (صحیح مسلم)۔ علامہ نووی رحمہ اللہ نے اسی بنا پر ماہِ شعبان کے روزوں کو مسنون قرار دیا ہے۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ رکھنے والے کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔” (شعب الایمان)
اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ اور دیگر صحابہؓ سے بھی ایسی روایات مروی ہیں جن میں اس رات مغفرتِ عام، رحمت کے نزول اور دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔ محدثین کے نزدیک اگرچہ بعض روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، لیکن جب متعدد طرق سے ایک ہی مضمون ثابت ہو جائے تو وہ فضائل کے باب میں قابلِ قبول ہوتی ہیں۔
سلف صالحین، تابعین اور تبع تابعین اس رات کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں شعبان کی پندرہویں رات بھی شامل ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اس رات کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اور سلف اس رات عبادت کیا کرتے تھے۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ جیسے اکابر نے بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ شبِ برأت کی فضیلت ثابت ہے اور اس رات عبادت کرنا مستحب ہے۔
شبِ برأت کا اصل پیغام افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اللہ کی طرف سچی توبہ اور رجوع ہے۔ اس رات درج ذیل اعمال کا اہتمام کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے:
نمازِ عشاء اور نمازِ فجر باجماعت ادا کرنا
توبہ و استغفار اور دل کو کینہ، بغض اور نفرت سے پاک کرنا
نوافل، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار — بہتر ہے کہ تنہائی میں ہوں
دعائیں — اپنی ذات، والدین، مرحومین اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے
اگر سہولت ہو تو پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا
زیارتِ قبور — لیکن صرف اسی حد تک جس حد تک سنت سے ثابت ہے، اس میں غلو، چراغاں یا رسومات سے اجتناب ضروری ہے
بدقسمتی سے آج شبِ برأت کو بھی بعض لوگ آتش بازی، پٹاخوں، لہو و لعب اور غیر شرعی رسومات میں ضائع کر دیتے ہیں، جو نہ صرف اس مقدس رات کے تقدس کے خلاف ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی کا سبب بھی ہے۔ شبِ برأت عبادت، خاموشی، توبہ اور فکرِ آخرت کی رات ہے، نہ کہ میلے، شور شرابے اور اسراف کی۔
شبِ برأت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں۔ کیا خبر کہ آئندہ سال ہمیں یہ رات نصیب ہو یا نہ ہو۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا فانی ہے، اصل کامیابی اللہ کی رضا اور آخرت کی نجات میں ہے۔ اگر ہم اس رات کو سچے دل سے توبہ، اصلاحِ نفس اور اعمالِ صالحہ کے عزم کے ساتھ گزار لیں تو یہ واقعی ہمارے لیے *پروانۂ نجات* بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ برأت کی قدر کرنے، اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔


