حیدرآباد (پریس نوٹ) مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے بیان میں کہا ہمارے آباء و اجداد ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں سرفروشانہ اور قائدانہ کردار ادا کیا ان کی خدمات اور قربانیاں ناقابل فراموش ہے ہم بار بار پوری قوت اور شدت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں بلکہ اس کے وسائل اور مواقع سے استفادہ کرنے میں برابر کے حصہ دار ہیں۔
ہم مذہبی آزادی کے تمام حقوق کے ساتھ اس ملک کے باعزت باوقار اور وفادار شہری ہیں افسوس کہ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں اور کمزور طبقات کو ان کے شہری اور قانون حقوق سے محروم رکھنا چاہتی ہیں ان کے مذہبی سماجی اور تعلیمی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے زندگی کے ہر شعبے میں انھیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مولانا نے کہا ملک کے موجودہ حالات کا ہمیں گہرا اور پختہ شعور ہونا چاہیے حالات کو نظر انداز کرنا اور اس سے غفلت برتنا ہمارے لیے بھی اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے بھی شدید خطرہ کی بات ہے۔
ہم اپنی شہریت سے متعلق تمام دستاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیں دستاویز نہیں ہے تو دستاویز بنائیں اور دستاویز ہیں تو اس میں اپنے ناموں کی والدین اور بچوں کے ناموں کی اور گھر کے ایڈریس وغیرہ ایک ایک چیز درست کریں بالخصوص الیکشن کمیشن اف انڈیا کی طرف سے SIR کے نام سے ووٹر لسٹ کی جانچ پڑتال کے سلسلہ میں جو مہم شروع کی گئی ہے اس میں بھرپور حصہ لیں مطلوبہ دستاویز ہمیشہ تیار رکھیں اس کے لیے اپنے محلے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باضابطہ تربیت دے کر SIR کے عمل میں حصہ لینے کے لیے خصوصی مہم چلائیں۔
مولانا قاسمی نے کہا اس کام میں مختلف دینی جماعتیں اور ملی تنظیمیں بھی سرگرم ہے ہم ان کا ساتھ دیں اپنے اپنے محلوں میں ان کو ساتھ لے کر کییمپس لگائیں تاکہ عام لوگ اپنے شہری اور قانونی حقوق سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور وہ آئندہ کسی مصیبت اور آزمائش کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں مولانا نے زور دے کر کہا اس وقت ہمیں راشن تقسیم کرنے اور دیگر رفاہی کام کرنے سے زیادہ SIR کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ فرقہ پرستوں کی سازش یہ ہے کہ دستاویز میں معمولی غلطیوں کو بنیاد بنا کر ہمیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جائے یاد رکھیے اس موقع پر غفلت وقت کوتاہی کی وجہ سے آئندہ ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی SIR کے کام کے سلسلہ میں ہماری معمول معلومات بالکل صحیح ہو تاکہ ہماری کوششیں صحیح رخ پر جاری رہے اور صحیح نتیجہ سامنے آئے اس کے لیے مقامی سیاسی قائدین سے بھی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔


