اسلامی قانون وراثت میں خواتین کے ساتھ ناانصافی کا الزام؟ سپریم کورٹ نے یکساں سیول کوڈ کو حل قرار دے دیا (شرعی قانون کی اصل حقیقت کیا ہے؟)

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے منگل کو مسلم پرسنل لا کے بعض وراثتی قوانین کو خواتین کے خلاف امتیازی قرار دیتے ہوئے دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کی اور کہا کہ اس مسئلہ کا مستقل حل پارلیمنٹ کے ذریعہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ میں مضمر ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس آر مہادیون شامل تھے، نے درخواست گزاروں کے وکیل پرشانت بھوشن سے سوال کیا کہ کیا عدالت کسی مذہبی شخصی قانون کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے اسٹیٹ آف بامبے اور نراسو اپپا مالی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر عدالت مسلم پرسنل لا(شریعت) ایکٹ 1937 کے تحت وراثت سے متعلق دفعات کو ختم کر دیتی ہے تو قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ مسلم وراثت کے لیے کوئی متبادل قانون موجود نہیں۔

اس پر پرشانت بھوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر شریعت ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو اس صورت میں انڈین سسیشن ایکٹ 1925 لاگو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت یہ اعلان کر سکتی ہے کہ مسلم خواتین کو مردوں کے برابر وراثتی حقوق حاصل ہیں۔

بھوشن نے اپنی دلیل میں یونین آف انڈیا اور سائرہ بانو کیس کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں سپریم کورٹ نے تین طلاق کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ اصلاحات کے جوش میں کہیں ایسا نہ ہو کہ خواتین کو موجودہ حقوق سے بھی محروم ہونا پڑ جائے۔ ان کے مطابق اگر شریعت ایکٹ ختم ہو جائے تو اس سے ایک غیر ضروری قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

جسٹس باگچی نے کہا کہ یہ معاملہ امتیازی سلوک کا ایک مضبوط کیس ہے، لیکن بہتر ہوگا کہ اسے مقننہ کی دانشمندی پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ ڈائریکٹیو پرنسپلس آف اسٹیٹ پالیسی کے تحت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی درخواست میں یہ بھی واضح کریں کہ اگر شریعت قانون کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو اس کے بعد قانونی نظام کیا ہوگا۔ اس ہدایت کے ساتھ سماعت کو ملتوی کر دیا گیا۔

بعض معترضین کی طرف سے اسلام کے قانونِ وراثت میں عورت کے حصے کو یوں پیش کیا جا تا ہے گویاکہ عورت کو ایک کم تر مخلوق سمجھ کر اس کے حصے کوآدھا کر دیا گیا ہے، پھر اسی مفروضے کی بنیاد پر اسلام کو بحیثیت مجموعی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔یہ اعتراض نہ صرف غیر مسلم حلقوں کی طرف سے اُٹھایا جاتا ہے بلکہ یورپی لٹریچر پڑھنے والے مغرب زدہ مسلمان بھی لاعلمی کی وجہ سے اس طرح کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں ۔ نیز مخصوص ایجنڈے کی حامل این جی اوز اسی پردے میں اسلام کو نشانہ بنانے سے نہیں چوکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام عورت کومختلف حیثیتوں سے وراثت میں حصہ دیتا ہے۔ اسلام کے قانون وراثت میں عورت بیوی، ماں، بیٹی اور کئی دوسری حیثیتوں سے وراثت میں حصہ پاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف نہ صرف عورت (بیوی)کی کما ئی میں مر د(شوہر) کا کوئی حصہ نہیں ہے، بلکہ مکان خریدنے، گھر کا تمام خرچ ادا کرنے ،بیوی اور بچوں کا نان نفقہ،بیوی اور بچوں کے کپڑوں، ان کی تعلیم، نوکروں کی تنخواہوں اور گھر کے دوسرے تمام اخراجات کا ذمہ دار بھی صرف مر د ہی ہے اور عورت پر ان میں سے کوئی بھی ذمہ داری عائد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ مطالبہ کرے تو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے شوہر کو نوکر بھی رکھنا پڑے گا (بشرطیکہ وہ اخراجات اُٹھا سکتا ہو)۔حتیٰ کہ اگرعورت کسی وجہ سے اپنے میکے چلی جائے اور شوہر لینے نہ جائے تو وہاں بھی رہنے اور نان نفقہ کے اخراجات شوہر کو ہی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ طلاق کی صورت میں بھی عدّت کے ایام میں عورت کے اخراجات کی ذمہ داری اسلام شوہر پر ڈالتا ہے اور عدت ختم ہوتے ہی عورت کو دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے۔ بیوی کو باپ کے گھر لے جانا اور اس کے اخراجات برداشت کرنا بھی شوہر کے ذمہ ہے۔

اسلامی قانون وراثت کے کچھ اہم پہلو:
۱۔ صاحبِ اولاد بیٹے کی رحلت کی صورت میں ماں (عورت)اور باپ(مرد)کو برابربرابر حصہ (یعنی ۶/۱حصہ) ملتا ہے اور ماں کو عورت ہونے کی وجہ سے آدھا یا باپ کو مرد ہونے کے ناتے دوگنا حصہ نہیں ملتا۔

سورۂ نساء میں ارشاد ہے: ’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے ۔ اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انھیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے ۔ اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے ۔ اگر میت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے ۔ اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے ۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔ (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں گے)،جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو ، پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے ۔ تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظِ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں ، اور اللہ یقیناسب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے‘‘۔ (النساء۴:۱۱)

اس آیت میں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ یہاں بنیادی اکائی (basic unit)عورت کے حصے کو بنایا گیا ہے اور مرد کو اس کا دوگنا دیا گیا ہے۔ گویا اہمیّت اور زور عورت کے حصے پر ہے، جس کو بنیادبنا کر باقی لوگوں کے حصوں کا حساب کیا جائے گا۔یہ بات بذات خود عورت کی حیثیت کو بلند کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ یہ قانون اُس معاشرے کے اندر بیان ہوا، جس میں عورت کی حیثیت بہت ہی کم تر تھی۔ جایداد میں حصہ تو دُور کی بات ہے، اسے توصرف مردکے تصّرف کا ایک کھلونا سمجھا جاتاتھا اور وراثت میں حصہ صرف ان مردوں کو ملتا تھا جو صحت مند اور جنگ میں حصہ لینے کے قابل ہوتے تھے۔

۲۔ مرد کی وفات کی صورت میں بیوی(عورت)کو۸/۱حصہ ملتا ہے، چاہے اس کی جتنی بھی اولاد ہو، مثلاً اگر ۱۰بیٹے بھی ہوں تب بھی بیوی کوشوہر کے ترکے سے ۸/۱حصے کی ادایگی کے بعد باقی وِرثہ اس کے بیٹوں (مردوں)میں برابر تقسیم ہوگا۔ گویا بیوی کا حصہ پہلے سے متعین ہے اور باقی جایداد بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ اس کی بنیاد یہ نہیں رکھی گئی کہ چوں کہ وہ عورت ہے، اس لیے اس کا حصہ بیٹوں کے مقابلے میں آدھا ہوگا، بلکہ تمام دوسرے ورثا سے پہلے اس کا حصہ مقرر کیا گیا ہے جو پوری جایداد سے دیا جاتا ہے۔

۳۔ اگر میت کی ایک ہی بیٹی ہے اور باقی اولاد نہیں تو اس کو ترکے کا نصف حصہ ملے گا، باقی میت کے بھائیوں، بہنوں اور دوسرے ورثا میں تقسیم ہوگا۔ نزدیک ترین مرد ورثا (اس صورت میں بھائی) کو بھی میت کی بیٹی کے مقابلے میں زیادہ حصہ نہیں ملتا۔

۴۔ایسی صورت بھی ہو سکتی ہے، جب عورت کو حصہ ملتا ہے مگر مرد کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ مثلاً : جب وارث دوبیٹے،ایک بیٹی،نانا اورنانی ہوں تو نانی کو ۶/۱حصہ ملتاہے ،جب کہ ناناکوکچھ نہیں ملتا۔

۵۔ وراثت کی تقسیم اس وقت ہو تی ہے جب کفن دفن، زکوٰۃ، قضا روزوں کا کفارہ، قرض اور مہر وغیرہ سب مکمل طور پر ادا ہوجائیں۔ وراثت میں وہ چیز شامل نہ ہو گی، جو میت نے کسی کو زندگی ہی میں ہبہ (تحفہ)کی ہو اور وہ اس کی ملکیت میں سے نکل چکی ہو۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر والدین اپنی زندگی میں جایداد کی تقسیم کرنا چاہیں تو (برخلاف وراثت کے اصول کے جو کہ مرنے کے بعد لاگو ہوتا ہے)وہ جایداد بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر برابرتقسیم کریں گے، البتہ کسی بھی بیٹے یا بیٹی کو اپنی صواب دید کے مطابق خدمت کے صلے میں یا کسی اور جائز وجہ سے کم یا زیادہ حصہ دے سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں