حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات اب ہندوستان تک محسوس ہونے لگے ہیں۔ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے سبب ملک کے کئی بڑے شہروں میں ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث ہوٹلوں اور ریستورانوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر ماہِ رمضان کے دوران پکوان گیس کی کمی نے ہوٹل مالکان اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں کمرشل گیس سلنڈروں کی شدید کمی کے سبب تقریباً 10 سے 20 فیصد ہوٹل اور ریستوران پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند دنوں میں شہر کے تقریباً 50 فیصد ہوٹل بند ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی طرح بنگلور میں بھی ہوٹل ایسوسی ایشن نے کمرشل گیس سلنڈروں کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کئی ریستوران اور ہوٹل عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف شہروں کے ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں اچانک کمی کے باعث ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ سحری اور افطار کے اوقات میں ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں گیس کی قلت سے کھانے کی تیاری میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور کئی مقامات پر ہوٹل مالکان کو عارضی طور پر کاروبار بند کرنا پڑ رہا ہے۔
تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بھی اس بحران کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد میں ہوٹل مالکان نے بتایا کہ کمرشل گیس سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہونے سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ تلنگانہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر وینکٹ ریڈی کے مطابق اگر حکومت فوری طور پر متبادل انتظامات نہیں کرتی تو ریاست بھر میں ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔
اسی طرح وشاکھاپٹنم میں بھی ہوٹل مالکان نے کمرشل گیس سلنڈروں کی شدید قلت کی شکایت کی ہے۔ مقامی ہوٹل مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق کچھ علاقوں میں گیس سلنڈر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
ادھر مرکزی حکومت نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کی مدت کو 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیاد پر گیس فراہم کی جا سکے۔ حکومت نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ایل پی جی کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
حکومت نے آئیل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو کمرشل گیس سلنڈروں کی سپلائی کا جائزہ لے گی۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرمود تیواری اور رام گوپا یادوسمیت کئی رہنماؤں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے باوجود حکومت کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل اور منظم فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں گیس اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عوام اور چھوٹے کاروباروں پر پڑے گا۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران پکوان گیس کی قلت نے ہوٹل مالکان اور روزہ داروں دونوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔


