حیدرآباد (دکن فائلز) جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ بدھ کی شام جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ حملہ آور نے انہیں قریب سے گولی مارنے کی کوشش کی، تاہم نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کے کمانڈوز کی فوری کارروائی کے باعث یہ حملہ ناکام ہو گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب 88 سالہ رہنما جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں واقع رائل پارک میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے قریب پہنچا اور قریب سے فائر کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور چند قدم کے فاصلے پر تھا اور اس نے بندوق سیدھی فاروق عبداللہ کی طرف تان رکھی تھی۔
ذرائع کے مطابق این ایس جی کمانڈوز نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حملہ آور کو دھکا دیا جس کے باعث گولی اپنے ہدف سے چوک گئی اور فاروق عبداللہ محفوظ رہے۔ واقعہ کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور کو پکڑنے کے بعد موقع پر موجود لوگوں نے اس کی پٹائی بھی کی۔
پولیس نے حملہ آور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ اس کی شناخت 65 سالہ کمال سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے جو جموں کے علاقے پرانا منڈی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ بیس برس سے اس موقع کا انتظار کر رہا تھا۔
پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ فاروق عبداللہ کی جان لینے کی کوشش اس وقت کی گئی جب وہ گریٹر کیلاش جموں میں واقع رائل پارک میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔”
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعہ کو اپنے والد پر قاتلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ محفوظ رہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کے والد کو بالکل قریب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن سکیورٹی ٹیم کی بروقت کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں، خاص طور پر یہ کہ زیڈ پلس سکیورٹی اور این ایس جی تحفظ کے باوجود کوئی شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا۔
واقعہ کے وقت فاروق عبداللہ کے ساتھ جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر سنگھ چودھری اور وزیر اعلیٰ کے مشیر نصیر سوگامی بھی موجود تھے۔
نصیر سوگامی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش تھی، تاہم اللہ کا کرم ہے کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال حملے کے محرکات یا سکیورٹی میں ممکنہ کوتاہی کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔


