ملک بھر میں گیس سلنڈر کی شدید قلت سے ہاہاکار! ایل پی جی سلنڈر کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں، ہوٹلس و دیگر کاروباری ادارے بند ہونے لگے، انڈکشن چولہوں کی مانگ میں اضافہ، اپوزیشن کا احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان میں ایل پی جی کی فراہمی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ ملک کے کئی شہروں میں کمرشیل گیس سلنڈروں کی قلت کے باعث ہوٹل، ریستوران، کیٹرنگ سروسز اور چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو لے کر پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔

حیدرآباد سمیت تلنگانہ بھر میں کیٹرنگ اور ہوٹل صنعت شدید دباؤ میں ہے۔ شہر کے کیٹررز کا کہنا ہے کہ کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی معمول کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد رہ گئی ہے۔ رمضان کے دوران ہوٹلس میں گیس کی کمی نے ان کے کاروبار کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب بریانی جیسی ڈشز لکڑی کے چولہے پر تیار کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر کھانے بنانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

شہر کے مشہور ریستوران و ہوٹلس بھی اب کسی حد تک لکڑی یا کوئلے کے چولہوں سے کام چلا رہے ہیں، تاہم نئے اور چھوٹے ریستوران اس سہولت سے محروم ہیں اور بعض نے عارضی طور پر دکانیں بند بھی کر دی ہیں۔ ٹفن سنٹرز اور چھوٹے کھانے کے اسٹال بھی شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایل پی جی بحران کا اثر صرف حیدرآباد تک محدود نہیں بلکہ دہلی، نوئیڈا، ممبئی، بنگلور اور چینئی سمیت کئی بڑے شہروں میں بھی ریستورانوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بعض مقامات پر ریستورانوں کے پاس صرف ایک یا دو دن کا گیس ذخیرہ باقی ہے جبکہ کئی جگہوں پر ہوٹلوں نے عارضی طور پر کام بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں ویٹرز، باورچی اور دیگر ملازمین کے روزگار پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔

حکام کے مطابق بحران کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے جس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

کئی شہروں میں گیس سلنڈر بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جہاں کمرشیل سلنڈر کی قیمت 5000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ حیدرآباد کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر پڑوسی ریاستوں سے سلنڈر غیر قانونی طریقے سے لا کر زیادہ قیمتوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔

متبادل ایندھن کے طور پر لکڑی اور انڈکشن چولہوں کی مانگ بھی اچانک بڑھ گئی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز جیسے امیزان اور فلپ کارٹ پر کئی انڈکشن کک ٹاپ ماڈلز آؤٹ آف اسٹاک ہو گئے ہیں۔

ایندھن کی کمی کا اثر ٹرانسپورٹ شعبے پر بھی پڑ رہا ہے۔ حیدرآباد میں ہزاروں آٹو اور سی این جی گاڑیاں گیس کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔ ڈرائیوروں کو گیس حاصل کرنے کے لیے کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑا رہنا پڑ رہا ہے جس سے ان کی روزانہ کی آمدنی کم ہو رہی ہے۔

ایل پی جی بحران کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا۔ احتجاج میں راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے۔

مظاہرین نے پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ کے قریب علامتی طور پر گیس سلنڈر رکھ کر احتجاج کیا جبکہ خواتین ارکان نے اینٹوں سے عارضی چولہا بنا کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر مظاہرین نے “نام نریندر، کام سرینڈر” اور “مودی جی سدن میں آئیں” جیسے نعرے بھی لگائے۔

راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو گھبرانے سے منع کر رہے ہیں لیکن خود دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو پارلیمنٹ میں آ کر ایل پی جی بحران پر واضح جواب دینا چاہیے۔

مرکزی حکومت نے تاہم واضح کیا ہے کہ گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی کی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ کمرشیل استعمال کے لیے سپلائی محدود کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی و بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے ریاستی حکومتوں کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو ملک میں ایندھن کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات معیشت اور روزگار پر بھی نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں