ملک میں فرقہ پرستی کا زہر عروج پر: پونے میں افطار کرنے والے 14 مسلم روزہ داروں پر 200 شدت پسند غنڈوں نے حملہ کردیا! متعدد نوجوان شدید زخمی

(فوٹو بشکریہ مائی پونے پلس ڈاٹ کام)
حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت اور اسلاموفوبیا کے ایک اور افسوسناک واقعہ میں ریاست مہاراشٹرا کے ضلع پونے میں افطار کرنے کے لیے جمع مسلم نوجوانوں پر تقریباً 100 سے 200 شدت پسند غنڈوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً 6:30 بجے بوپدیو گھاٹ کے قریب اسکارواڑی بھیواری علاقہ میں پیش آیا، جہاں چند مسلم نوجوان رمضان المبارک کے روزے کے بعد افطار کرنے کے لیے ایک تالاب کے قریب جمع ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ افراد کونڈھوا علاقہ سے دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں پر پھل اور کھانا لے کر آئے تھے تاکہ اجتماعی طور پر افطار کر سکیں۔ اسی دوران موٹر سائیکلوں پر سوار ایک بڑا ہجوم وہاں پہنچ گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے مسلم نوجوانوں کی موجودگی پر اعتراض کیا اور پوچھا کہ کیا یہ جگہ ان کے باپ کی ملکیت ہے اور وہ یہاں مسلم لباس پہن کر کیوں آئے ہیں۔ ہجوم کے افراد نے مبینہ طور پر نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے سروں سے ٹوپیاں اتار دیں۔

چند لمحوں بعد صورتحال تشدد میں تبدیل ہو گئی اور حملہ آوروں نے لاٹھیوں، ڈنڈوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے نوجوانوں پر حملہ کر دیا۔ اس دوران کئی افراد کو سر اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔

متاثرین کے مطابق حملہ آوروں نے نہ صرف مارپیٹ کی بلکہ پتھراؤ بھی کیا جس کے باعث لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ افراد کا یہ بھی الزام ہے کہ ہجوم نے ان کے موبائل فون اور نقد رقم بھی چھین لی۔

ایک عینی شاہد ابرار خان نے بتایا کہ وہ صرف افطار کے لیے وہاں آئے تھے لیکن اچانک بڑی تعداد میں لوگ انہیں گھیر کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہاکہ “ہم 14 لوگ تھے اور ہمیں تقریباً 200 افراد نے گھیر لیا۔ انہوں نے ہماری ٹوپیاں اتار دیں اور بے رحمی سے مارا پیٹا۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس گاؤں میں مسلم شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔”

اس واقعہ کے بعد فیروز جاوید سید نامی شخص نے ساسواد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے تقریباً 100 سے 150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جن میں 118(1)، 189(2)، 190، 191(2)، 191(3)، 351(2)، 351(3) اور 352 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین آرمس ایکٹ اور بامبے پولیس ایکٹ کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پونے رورل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندیپ سنگھ گل نے تصدیق کی کہ واقعہ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ساسواد پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کمار کدم نے بتایا کہ اب تک 10 سے 15 مشتبہ افراد کی شناخت کی جا چکی ہے اور مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ واقعہ کے بعد کونڈھوا علاقے کے رہائشیوں اور مسلم کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد ساسواد پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئی اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ایس ڈی پی آئی کے مقامی رہنما تاج صدیقی نے الزام لگایا کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اس میں شدت پسند عناصر ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روزہ دار نوجوان صرف افطار کے لیے جمع ہوئے تھے مگر ان پر بے رحمانہ حملہ کیا گیا جس میں کئی افراد کو شدید چوٹیں آئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں