حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ نجی ملکیت میں قائم مسجد میں ادا کی جانے والی نماز میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نجی احاطے میں مذہبی عبادات کے انعقاد پر قانوناً کوئی پابندی نہیں ہے۔
جسٹس شیکھر بی سرف اور جسٹس وویک سرن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ حکم علی شیر نامی شہری کی درخواست پر سنایا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بدایوں میں واقع وقف مسجد رضا، جو ان کی نجی جائیداد کے ایک حصے میں قائم ہے، وہاں نماز کی ادائیگی میں انتظامیہ رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے 27 جنوری کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماعات کے انعقاد کے لیے کسی قانونی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ وہ اس سابقہ فیصلے سے متفق ہے اور اسی بنیاد پر متعلقہ حکام کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ درخواست گزار کی نجی ملکیت میں ہونے والی نماز میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ کریں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی عوامی مقام یا سڑک پر امن و امان کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پولیس قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ درخواست گزار اور دیگر افراد کو پرامن طریقے سے نماز ادا کرنے کے لیے تحفظ فراہم کیا جائے۔


