حیدرآباد (دکن فائلز) تقریباً دو دہائیوں سے ملک بھر میں موضوعِ بحث رہنے والے سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس میں Bombay High بامبے ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 22 ملزمان کی بریت برقرار رکھی ہے۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس گوتم انکھاڈ پر مشتمل بنچ نے سہراب الدین شیخ کے بھائیوں روباب الدین اور نائب الدین کی جانب سے دائر اپیلوں کو مسترد کر دیا۔
یہ مقدمہ 2005 میں گینگسٹر سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر سے متعلق تھا۔ الزام تھا کہ گجرات اور راجستھان پولیس کے بعض اہلکاروں نے تینوں کو حراست میں لینے کے بعد جعلی انکاؤنٹر میں قتل کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ایسے مضبوط شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا جن سے کسی سازش یا ملزمان کے براہ راست کردار کو ثابت کیا جا سکے۔ 2018 میں خصوصی عدالت نے بھی تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس کے خلاف مقتول کے اہل خانہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اس کیس میں کل 22 افراد ملزم تھے جن میں گجرات اور راجستھان پولیس کے 21 افسران شامل تھے۔ ایک ملزم وہ فارم ہاؤس مالک تھا جہاں مبینہ طور پر سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کو غیر قانونی طور پر رکھا گیا تھا۔ سی بی آئی نے گزشتہ برس عدالت کو بتایا تھا کہ وہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو قبول کرتی ہے اور بریت کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔
سی بی آئی کے مطابق نومبر 2005 میں سہراب الدین شیخ کو احمد آباد کے قریب مبینہ جعلی انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا جبکہ چند روز بعد ان کی اہلیہ کوثر بی کو بھی مار دیا گیا۔ بعد ازاں دسمبر 2006 میں اہم گواہ سمجھے جانے والے تلسی رام پرجاپتی بھی ایک اور مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیے گئے۔
یہ معاملہ اس وقت ملک بھر میں شدید سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنا تھا اور سپریم کورٹ نے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ممبئی منتقل کی تھی۔ سہراب الدین کے بھائیوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کے دوران کئی گواہوں کے بیانات درست طور پر ریکارڈ نہیں کیے گئے اور مقدمے کی دوبارہ سماعت ہونی چاہیے، تاہم ہائی کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا۔


