حیدرآباد (دکن فائلز) بنگلہ دیش نے مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی جیت کے بعد ایک اہم اور سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے (Push-in) کے واقعات بڑھے تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے واضح طور پر کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب ردعمل دے گا۔
“پش اِن” یا “پش بیک” سے مراد وہ الزامات ہیں جن کے مطابق سرحدی فورسز بعض افراد کو زبردستی بنگلہ دیش کی حدود میں دھکیل دیتی ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کے پاس ہندوستانی شہریت کے دستاویزات بھی ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ برسوں میں ہزاروں افراد کو اس طرح سرحد پار بھیجنے کے الزامات سامنے آئے، جن میں کچھ ہندوستانی شہری بھی شامل تھے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب مغربی بنگال کے انتخابات میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ سیاسی بیانیے کا اہم حصہ رہا۔


