حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے میدک میں ایک انتہائی چونکا دینے والا اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نومولود بچی کو مردہ قرار دے کر مبینہ طور پر فروخت کر دیا گیا۔ یہ معاملہ کچھ دنوں بعد منظر عام پر آیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ متعلقہ اسپتال کو سیل کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاپن پیٹ منڈل کے لکشمی نگر تانڈہ کی رہائشی ناصرہ فاطمہ، جو سکندرآباد کے علاقہ مولا علی میں مقیم ہیں، سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ گزشتہ ماہ وہ اپنے میکے میدک آئیں، جہاں ایک حادثہ کے دوران بندروں کے حملہ میں زخمی ہو کر شدید خون بہنے لگا۔ انہیں فوری طور پر ایک مقامی پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
اگلے دن ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعہ ایک بچی کی ولادت کروائی۔ تاہم اسپتال میں کام کرنے والی نرس اختر بیگم نے ماں کو یہ کہہ کر گھر بھیج دیا کہ بچی پیدا ہوتے ہی فوت ہو گئی ہے۔ چند دن بعد ایک نامعلوم شخص نے ناصرہ فاطمہ کو اطلاع دی کہ ان کی بچی زندہ ہے۔ اس پر خاتون نے اسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کیا اور اپنے شوہر کے ساتھ پولیس میں شکایت درج کروائی۔
پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نرس اختر بیگم نے بچی کو ایک خاتون کے حوالے کیا، جس نے بعد میں اس نومولود کو ضلع سدی پیٹ کے ایک جوڑے کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔ رقم میں سے زیادہ حصہ نرس نے خود رکھا جبکہ کچھ رقم درمیانی خاتون کو دی گئی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچی کو بحفاظت بازیاب کر لیا اور اسے میدک کے ہیلتھ مرکز میں منتقل کر دیا۔ اس کیس میں نرس، درمیانی خاتون اور بچی خریدنے والے میاں بیوی کو گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ اسپتال کا مالک فرار بتایا جا رہا ہے۔
واقعہ کے بعد ضلع کلکٹر نے تحقیقات کا حکم دیا، جس پر محکمہ صحت کے حکام نے اسپتال کو سیل کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد اس گھناونے جرم میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


