حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مبینہ طور پر پیش آئے انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز واقعہ نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ 27 سالہ عارف خان نامی نوجوان کو کچھ شدت پسند عناصر نے ایک ہوٹل سے گھسیٹ کر باہر نکالا، تشدد کا نشانہ بنایا، جزوی طور پر برہنہ کیا، چہرے پر سیاہی اور گائے کا گوبر مل کر عوامی طور پر ذلیل کیا۔ حملہ آوروں نے اس پر مبینہ “Love Jihad” کا الزام عائد کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بھوپال کے گووند پورہ علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں پیش آیا، جہاں عارف خان ایک ہندو خاتون کے ساتھ موجود تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق خود کو بجرنگ دل سے وابستہ بتانے والے افراد اچانک ہوٹل پہنچے اور نوجوان کو زبردستی باہر نکال کر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جن میں نوجوان کی تذلیل اور تشدد واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے عارف خان کے ساتھ “live-in relationship” میں تھی اور اپنی مرضی سے اس کے ساتھ ہوٹل گئی تھی۔ خاتون کے بیان کے بعد شدت پسندوں کے “لو جہاد” دعوے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اس واقعے کے خلاف بھوپال کی مسلم برادری سڑکوں پر نکل آئی۔ سینکڑوں افراد نے شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے کازیات سے پولیس کنٹرول روم تک مارچ کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف ایک نوجوان پر نہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور شہری آزادیوں پر حملہ ہے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر تمام ملزمان گرفتار نہ کیے گئے تو شہر بند کی کال دی جائے گی۔
کانگریس کے اراکین اسمبلی عارف مسعود اور آتف عقیل کے علاوہ کل ہند مجلس اتحادالمسلمین رہنما محسن علی بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس واقعے کو قانون کی ناکامی اور فرقہ وارانہ نفرت کا خطرناک مظہر قرار دیا ہے۔
بھوپال پولیس کمشنر سنجے کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی شناخت کیلئے ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔
تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ شہر میں کشیدگی کے پیش نظر حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔


