جیت کا گھمنڈ! مسلمانوں کی لاکھ مخالفت کے باوجود آسام میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی منظوری، قبائلی برادریاں دائرۂ کار سے باہر

حیدرآباد (دکن فائلز) آسام کی حکومت نے مسلمانوں کی جانب سے لاکھ مخالفت کے باوجود ریاست میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ / UCC) نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم قبائلی برادریوں کو اس قانون کے دائرۂ کار سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ان کی حکومت کی دوسری مدتِ کار کی پہلی کابینہ میٹنگ میں یہ اہم فیصلہ لیا گیا، جو اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی بل 26 مئی کو نئی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

ہمنتا بسوا سرما کے مطابق آسام حکومت نے دیگر ریاستوں کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے یو سی سی کو مقامی ضروریات کے مطابق تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ، گوا اور گجرات پہلے ہی یونیفارم سول کوڈ نافذ کر چکے ہیں، تاہم آسام میں اسے سماجی و ثقافتی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈھالا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست کی قبائلی آبادی کی روایات، رسوم و رواج اور سماجی طریقۂ کار کو مکمل تحفظ دیا جائے گا اور انہیں یو سی سی کے دائرے سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق آسام کے مختلف قبائل کی ثقافتی شناخت اور روایتی نظام میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق مجوزہ یو سی سی کے تحت وراثت، شادی، طلاق، شادی کی لازمی رجسٹریشن اور لیو اِن ریلیشن شپ جیسے معاملات کو منظم کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد تمام شہریوں کے لیے یکساں قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا اور قانونی نظام میں شفافیت لانا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ حکمراں جماعت نے اسے تاریخی قدم قرار دیا ہے جبکہ بعض اپوزیشن جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون کے اثرات مستقبل میں مختلف مذہبی و سماجی طبقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر مسلم تنظیموں نے اس قانون کے ذریعہ صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں