بڑی خبر: NEET 2026 پیپر لیک معاملہ میں راجستھان سے بی جے پی لیڈر گرفتار! کانگریس کا سنگین الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر میں ہلچل مچانے والے NEET UG 2026 پیپر لیک معاملے میں ایک اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ راجستھان میں بی جے پی سے وابستہ ایک مقامی لیڈر دنیش بنوال کا نام اس اسکینڈل میں سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ راجستھان کی بی جے پی حکومت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔

سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم دنیش بنوال بھارتیہ جنتا یووا مورچہ سے وابستہ عہدیدار ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر FIR درج کرنے میں تاخیر کی کیونکہ معاملہ بی جے پی لیڈر سے جڑا ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دنیش بنوال پر الزام ہے کہ اس نے NEET 2026 کا سوالیہ پرچہ تقریباً 30 لاکھ روپے میں خریدا اور بعد میں اسے لاکھوں روپے لے کر کئی امیدواروں اور گروپس تک پہنچایا۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے بھی پیپر فارورڈ کیا تھا۔

مرکزی جانچ بیورو نے اس معاملے میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں تین جے پور، ایک گڑگاؤں اور ایک ناسک سے پکڑا گیا ہے۔ سی بی آئی نے مختلف ریاستوں میں چھاپے مار کر موبائل فون، الیکٹرانک ڈیوائسز اور دیگر اہم شواہد بھی ضبط کیے ہیں۔

کانگریس نے مزید الزام لگایا کہ دنیش بنوال کی تصاویر راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دلاور اور دیگر بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ منظر عام پر آئی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیپر لیک مافیا کو سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ تاہم بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیش بنوال پارٹی کا کوئی عہدیدار نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں