حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے مصروف علاقہ راجہ بازار میں نمازِ جمعہ کے دوران پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعہ نے مقامی سطح پر سنسنی پھیلا دی۔ حیران کن طور پر یہ تنازعہ کسی دوسرے مذہبی طبقہ کے ساتھ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ہی دو گروپوں کے درمیان پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا اور پولیس کو فوری طور پر مداخلت کرنی پڑی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز راجہ بازار کی ایک مسجد میں نمازیوں کی غیر معمولی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ نماز کے وقت مسجد میں جگہ کم پڑنے لگی تو بعض نمازی قریبی دوسری مسجد کی طرف چلے گئے تاکہ وہاں نماز ادا کر سکیں۔ لیکن دوسری مسجد کی انتظامیہ سے وابستہ افراد نے انہیں واپس پہلی مسجد میں جانے کے لیے کہا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
چشم دید گواہوں کے مطابق بحث و تکرار نے کچھ ہی دیر میں شدت اختیار کر لی اور ماحول کشیدہ ہو گیا۔ اسی دوران کچھ افراد نے سڑک پر ہی نماز ادا کرنا شروع کر دی، جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لوگوں سے سڑک خالی کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
پولیس کی مداخلت کے دوران کچھ دیر کے لیے افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ دھکا مکی اور زوردار بحث کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے، تاہم پولیس اور مقامی ذمہ دار افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں گروپوں کو پرسکون کیا اور حالات کو قابو میں کر لیا۔
واقعہ کے بعد راجہ بازار اور اطراف کے علاقوں میں پولیس فورس کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔ پورا علاقہ ایک طرح سے پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سینئر پولیس افسران بھی موقع پر موجود رہے اور لوگوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے رہے۔
پولیس حکام کے مطابق معاملہ بروقت سنبھال لیا گیا، جس کی وجہ سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ خوش قسمتی سے اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی افراد کے بیانات کی بنیاد پر پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔ مقامی علمائے کرام و سماجی شخصیات نے بھی مسلمانوں سے اتحاد و بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور معمولی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی تلقین کی ہے۔


