حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازع تبصرہ نے قانونی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جمعہ کے روز ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران انہوں نے کچھ بے روزگار نوجوانوں اور نام نہاد سماجی کارکنوں کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے، جس پر سوشل میڈیا سے لے کر قانونی برادری تک مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جیو ملہ بگچی پر مشتمل بینچ ایک ایسے وکیل کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا جو سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ عزت، تجربہ اور پیشہ ورانہ وقار کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، نہ کہ اس کے حصول کے لیے مہم چلانے سے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے میں پہلے ہی ایسے ’’پیرسائٹس‘‘ موجود ہیں جو ہر وقت نظام پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بے روزگار نوجوان ’’کاکروچ‘‘ کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں نہ کوئی مناسب روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں مقام حاصل ہوتا ہے، اس لیے وہ میڈیا، سوشل میڈیا، آر ٹی آئی سرگرمیوں یا دیگر ایکٹوازم کے ذریعے نظام پر حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
عدالت نے درخواست گزار وکیل سے سوال کیا کہ کیا وہ بھی ایسے لوگوں میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’پوری دنیا سینئر ایڈووکیٹ بننے کی اہل ہو سکتی ہے، لیکن کم از کم آپ اس کے اہل نہیں ہیں۔‘‘
بینچ نے درخواست گزار کے فیس بک پوسٹس اور زبان پر بھی سخت اعتراض کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر دہلی ہائی کورٹ کسی طرح اسے سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دے بھی دے تو سپریم کورٹ اس کے پیشہ ورانہ رویے کی بنیاد پر وہ درجہ واپس لے سکتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سینئر ایڈووکیٹ کا اعزاز کسی شخص کے پیچھے بھاگنے سے نہیں بلکہ اس کی قابلیت، کردار اور قانونی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’کیا سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ صرف ایک تمغہ ہے جسے سجایا جائے؟‘‘
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وکلا کی تعلیمی اسناد پر بھی سوال اٹھائے۔ بینچ نے کہا کہ وہ سی بی آئی سے ان لوگوں کی ڈگریوں کی جانچ کرانے پر غور کر رہی ہے جو کالا کوٹ پہن کر عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، کیونکہ کئی افراد کی اسناد کی صداقت پر سنگین شبہات پائے جاتے ہیں۔
عدالت نے بار کونسل آف انڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاملات میں مؤثر کارروائی نہیں کرتی کیونکہ اسے ’’اپنے ووٹ‘‘ درکار ہوتے ہیں۔
سخت ریمارکس اور عدالت کی ناراضگی کے بعد درخواست گزار وکیل نے بینچ سے معافی مانگی اور اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر اب مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عدالت نے پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ذمہ داری کا درست پیغام دیا ہے، جبکہ بعض افراد ان الفاظ کو غیر ضروری طور پر سخت قرار دے رہے ہیں۔


