حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علماء ہند نے ملک میں بڑھتی فرقہ واریت، مسلمانوں اور اسلامی شعائر کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں اور “خوف و ہراس کی سیاست” پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیا ہے۔ تنظیم کی دو روزہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کے آئینی اداروں کی خاموشی اور مذہبی منافرت کے بڑھتے رجحانات قومی یکجہتی کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر قرارداد کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کبھی ظلم اور جبر کے سامنے نہیں جھکے، تاہم وہ نفرت کا جواب محبت اور بھائی چارے سے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پر مبنی سیاست اب منظم خوف و دہشت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو عدم تحفظ کا شکار بنانا اور انہیں مخصوص سماجی و سیاسی حالات قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اقتدار کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ملک کے امن، بھائی چارے اور اتحاد کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جمعیۃ نے الزام عائد کیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور نفرت انگیز مہمات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ قانون کے محافظ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
تنظیم نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی قائدین اقتدار کے لیے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ قرارداد میں اکثریتی طبقہ کو اقلیتوں کے خلاف مذہبی جذبات کی بنیاد پر بھڑکانے کی کوششوں کو آئین کے اصولِ انصاف، مساوات اور غیر جانبداری کے خلاف قرار دیا گیا۔
جمعیۃ علماء ہند نے مغربی بنگال کے ایک سیاسی رہنما کے اس مبینہ بیان پر بھی اعتراض کیا جس میں انہوں نے صرف ہندوؤں کے لیے کام کرنے کی بات کہی تھی۔ تنظیم کے مطابق اس قسم کے بیانات آئینی حلف اور جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہیں کیونکہ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری تمام شہریوں کی بلا تفریق خدمت کرنا ہے۔
قرارداد میں الزام لگایا گیا کہ ملک کو ایک “نظریاتی ریاست” میں تبدیل کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ جمعیۃ نے یکساں سول کوڈ، “وندے ماترم” کو لازمی قرار دینے، مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے نام پر حقیقی شہریوں کے ووٹنگ حقوق متاثر کیے جانے جیسے اقدامات کو اسی سلسلے کی کڑیاں قرار دیا۔
تنظیم نے کہا کہ اگرچہ ماضی کی حکومتوں کے دور میں بھی مسلمانوں کو سماجی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی سطح پر نقصان پہنچا، لیکن موجودہ حالات اس لیے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ اب براہِ راست اسلام اور اسلامی شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمعیۃ نے 2014 کے بعد بنائے گئے مختلف قوانین اور حالیہ اقدامات کو اس تبدیلی کی مثال قرار دیا۔
قرارداد میں عالمی سطح پر اسلام مخالف پروپیگنڈے کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ اسلام اپنی تاریخ کی طرح آئندہ بھی تمام سازشوں کے باوجود مضبوطی کے ساتھ قائم رہے گا۔
جمعیۃ علماء ہند نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام اقدامات کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ مولانا ارشد مدنی نے اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور ملک کے انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ اور فسطائی قوتوں کے خلاف متحد ہو کر بھائی چارہ، رواداری، انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔


