حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی تجارت سے وابستہ افراد شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد 1950ء کے ویسٹ بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل آوری شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت گائے، بیل اور بھینس کے ذبیحہ کے لیے سرکاری سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ جانور 14 سال سے زائد عمر کا ہے، مستقل طور پر معذور ہے یا قانونی طور پر ذبح کے قابل ہے۔
اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر وہ کسان اور مویشی تاجر ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد غیرمسلم اور ہندو تاجروں کی ہے۔ کئی تاجروں نے الزام لگایا کہ انہوں نے بقرعید کے موقع پر اچھی قیمت کی امید میں قرض لے کر مویشی پالے تھے، مگر اب سخت قوانین اور خوف کے ماحول کے باعث خریدار نہیں مل رہے۔ بعض تاجروں نے حکومت کے خلاف شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ان سے کاروبار کیا اور کبھی نقصان نہیں پہنچایا، مگر اب سیاسی ماحول نے ان کی روزی روٹی چھین لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریاست بھر کی مویشی منڈیوں میں بڑی تعداد میں جانور موجود ہیں، لیکن خریدار کم دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں اور مذہبی شخصیات نے احتیاطی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے کئی علاقوں میں عوام کو گائے کے بجائے بکرے یا بھیڑ کی قربانی کا مشورہ دیا ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں، کشیدگی اور ممکنہ تنازعات سے بچا جاسکے۔
سیاسی و سماجی حلقوں میں مسلمانوں کی اس متحدہ اور محتاط حکمت عملی کو سراہا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس حکمت عملی نے ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف مویشی تاجروں اور کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل واضح رہنمایانہ خطوط جاری کیے جائیں تاکہ تجارت مکمل طور پر تباہ نہ ہو۔


