مودی سے سوال کیوں نہیں؟ ناروے کی صحافی ہیلے لِنگ کا سوال عالمی بحث بن گیا، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل، راہل گاندھی کا طنز

حیدرآباد (دکن فائلز) وزیراعظم نریندر مودی کے ناروے دورہ کے دوران پیش آیا ایک واقعہ اب بین الاقوامی سطح پر پریس فریڈم، جمہوریت اور صحافیوں کے سوال کرنے کے حق پر بڑی بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ناروے کی صحافی ہیلے لِنگ نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ وہ ’’دنیا کی آزاد ترین پریس‘‘ کے سوالات کیوں نہیں لیتے، تاہم وزیراعظم مودی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔

ہیلے لِنگ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ وزیراعظم مودی ان کے سوال کا جواب دیں گے۔ انہوں نے ناروے کے پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے مقام اور ہندوستان کے 157 ویں مقام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے سوال کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے۔

اس واقعہ کے بعد معاملہ اس وقت مزید گرم ہوگیا جب ہیلے لِنگ نے دعویٰ کیا کہ ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ وہ پورا دن انسٹاگرام لاگ اِن کرنے کی کوشش کرتی رہیں اور آخرکار اکاؤنٹ معطل ہوگیا۔ انہوں نے اسے ’’پریس فریڈم کے لیے چھوٹی سی قیمت‘‘ قرار دیا، تاہم اکاؤنٹس کی معطلی کی اصل وجہ واضح نہیں ہوسکی۔

اس سے قبل ہندوستانی سفارت خانہ نے صحافی کو بتایا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ سے متعلق بریفنگ کا اہتمام کیا جارہا ہے اور وہ وہاں آکر سوال کرسکتی ہیں۔ بعد میں MEA کی بریفنگ میں ہیلے لِنگ نے وزارت خارجہ کے سکریٹری ویسٹ سبی جارج سے پوچھا کہ ہندوستان پر اعتماد کیوں کیا جائے، کیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکیں گی، اور کیا وزیراعظم مودی ہندوستانی پریس کے تنقیدی سوالات لینا شروع کریں گے۔

سبی جارج نے اس کے جواب میں ہندوستان کی تہذیب، آئین، خواتین کو حق رائے دہی، انتخابات، جمہوری اداروں اور عدالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے طویل جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے، مگر دنیا کے مسائل کا چھٹا حصہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آئین میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور اگر کسی کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو عدالت کا دروازہ کھلا ہے۔

بریفنگ کے دوران صحافی نے جب اپنا سوال دہرانے کی کوشش کی تو سبی جارج نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ مداخلت نہ کریں، یہ ان کی پریس کانفرنس ہے۔ اس تبادلہ خیال پر بھی سوشل میڈیا میں شدید ردعمل دیکھا گیا۔ ناقدین نے کہا کہ اصل سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا گیا۔

اسی دوران ہیلے لِنگ نے ایک اور ویڈیو میں ناروے کے وزیراعظم یونس گہر اسٹورے سے بھی سوال کیا کہ ناروے ہندوستان کو جمہوریت کیوں کہتا ہے جب ہندوستانی وزیراعظم 12 برسوں سے اپنے ملک میں پریس کانفرنس نہیں کرتے۔ ناروے کے وزیراعظم نے ہندوستان میں انتخابات اور بڑی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ جمہوریتوں میں پریس کلچر مختلف ہوسکتا ہے۔

اس معاملہ پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ راہل گاندھی نے سوال کیا کہ دنیا جب ایک وزیراعظم کو چند سوالات سے گھبرا کر نکلتے ہوئے دیکھتی ہے تو ہندوستان کی شبیہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ہیلے لِنگ نے بعد میں یہ بھی وضاحت کی کہ وہ کسی حکومت کی ایجنٹ یا جاسوس نہیں ہیں، بلکہ صحافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کبھی کبھی confrontational یعنی سخت سوالات پر مبنی ہوتی ہے، اور طاقتور عہدوں پر بیٹھے افراد سے واضح جواب لینا صحافی کی ذمہ داری ہے۔

یہ واقعہ اب صرف ایک سوال یا ایک ویڈیو تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ہندوستان میں پریس کانفرنس، وزیراعظم کے میڈیا سے براہ راست سوالات نہ لینے، انسانی حقوق، اقلیتوں کی صورتحال، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی جمہوری شبیہ جیسے کئی حساس موضوعات کو دوبارہ بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں