گجرات میں مسلم شخص کی حراستی تشدد سے موت، خاندان کا غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات میں ایک مسلم شخص کی پولیس حراست کے دوران مبینہ تشدد کے بعد موت کا معاملہ سامنے آنے پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ متوفی کی شناخت ظہیر شیخ کے طور پر ہوئی ہے، جنہیں پولیس نے مبینہ طور پر گائے کے گوشت کی برآمدگی کے دعویٰ کے بعد حراست میں لیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ظہیر شیخ کے خلاف مقدمہ جھوٹا تھا اور انہیں دورانِ حراست بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاندان کے مطابق جب انہیں واپس لایا گیا تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔

واقعہ کے بعد مقامی افراد اور سماجی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے مکمل، شفاف اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اہلکار قصوروار پائے جائیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

انسانی حقوق تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں حراستی اموات اور پولیس تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

پولیس کی جانب سے ابھی تک تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں