قرآنِ مجید کے خلاف سوشل میڈیا پر گستاخانہ پوسٹ، ہماچل پردیش میں مسلم تنظیموں کا شدید احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) ہماچل پردیش میں قرآنِ مجید کے خلاف مبینہ گستاخانہ اور توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد مسلم تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مختلف مسلم جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت اور پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے قرآنِ مجید کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز تبصرہ کیا گیا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پھیل گیا اور مسلم برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقدس مذہبی کتاب کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور اس طرح کی حرکتیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مسلم نمائندوں نے انتظامیہ کو ایک یادداشت بھی پیش کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گستاخانہ مواد پوسٹ کرنے والے افراد کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے احترام اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات، کتابوں یا عقائد کی توہین کو روکنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹ کی جانچ کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں