حیدرآباد (دکن فائلز) بہار میں ایک بار پھر مذہبی منافرت اور ہجومی تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں چند شدت پسند افراد نے ایک مسلم ہوٹل مالک اور اس کے کمسن بیٹے کو محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے کھانے کا بل ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے جبکہ مقامی مسلم تنظیموں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ بہار کے ایک علاقے میں پیش آیا جہاں چند افراد ایک مسلم شخص کے ہوٹل پر کھانا کھانے آئے۔ کھانا کھانے کے بعد جب ہوٹل مالک نے ان سے بل ادا کرنے کو کہا تو انہوں نے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ بحث و تکرار بڑھنے پر ان افراد نے ہوٹل مالک پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا بے بنیاد الزام لگانا شروع کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے نہ صرف ہوٹل مالک کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے کمسن بیٹے کو بھی مارا پیٹا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ جھوٹے الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں گائے کے گوشت کے نام پر مسلم تاجروں اور عام شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اقلیتی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔
متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔


