شیاطین کو پکارنے والے جادوئی منتر؟ نیدرلینڈز میں رومی دور کی نایاب تختی دریافت

حیدرآباد (دکن فائلز) نیدرلینڈز میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے رومی دور کی ایک نایاب سیسے کی تختی دریافت کی ہے جس پر ایسے پراسرار منتر اور علامات درج ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں دشمنوں کو نقصان پہنچانے یا ان پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت قدیم رومی اور مصری جادوئی روایات کے امتزاج کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

یہ تختی موجودہ نیدرلینڈز کے شہر ہیرلین کے قریب ایک آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملی، جو رومی سلطنت کے دور میں “لوئر جرمینیا” صوبے کا حصہ تھا۔ تقریباً 9.3 سینٹی میٹر لمبی اور 4.8 سینٹی میٹر چوڑی اس تختی پر تحریر قدیم یونانی زبان میں لکھی گئی ہے، حالانکہ اس خطے میں عام طور پر لاطینی زبان استعمال ہوتی تھی۔

انسٹیٹیوٹ آف پیپیرولوجی کے محققین نے جب اس تحریر کا تفصیلی جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس میں یونانی حروف، پراسرار علامات اور مصری جادوئی رسم الخط کا امتزاج موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی “کرس ٹیبلٹس” یا جادوئی تختیاں قدیم زمانے میں لوگوں کے خلاف بددعاؤں، دشمنوں کو نقصان پہنچانے یا دیوتاؤں اور مافوق الفطرت قوتوں سے مدد طلب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔

تحقیق کے مطابق سیسے کو خاص طور پر ان رسومات کے لیے منتخب کیا جاتا تھا کیونکہ قدیم عقائد میں اسے ایک ایسی دھات سمجھا جاتا تھا جو انسانوں اور اشیاء کو روحانی طور پر “باندھ” سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تختی رومی سلطنت میں پائے جانے والے جادو، مذہبی عقائد اور توہمات کے پیچیدہ نظام پر نئی روشنی ڈال سکتی ہے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت یورپ میں رومی دور کے روحانی اور جادوئی تصورات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اس زمانے میں مختلف تہذیبوں کے مذہبی اور جادوئی نظریات ایک دوسرے سے متاثر ہو رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں