حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دوستوں کو محض تفریحاً ڈرانے کی کوشش ایک نوجوان تاجر کی جان لے گئی۔ اطلاعات کے مطابق راجندر نگر سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ نوجوان تاجر نواب سید خمیس محی الدین اپنے دوستوں کے ساتھ معین آباد کے ایک فارم ہاؤس گئے تھے، جہاں خوشگوار ماحول میں وقت گزارنے کے دوران یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فارم ہاؤس کے احاطے میں ایک چھوٹا سانپ نظر آیا جسے خمیس نے بہادری اور مذاق کے انداز میں اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ وہ سانپ کو ہاتھ میں لے کر اپنے دوستوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران سانپ نے ان کے انگوٹھے پر کاٹ لیا۔
ابتدائی طور پر خمیس نے اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ سانپ کا سائز چھوٹا تھا۔ انہوں نے دوستوں کو یقین دلایا کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں اور طبی امداد کی ضرورت بھی نہیں۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد زہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا اور ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔
گھر والوں اور دوستوں نے فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت تک حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی۔ مسلسل علاج کے باوجود نوجوان تاجر جانبر نہ ہو سکے اور دم توڑ گئے۔
خمیس محی الدین کی اچانک موت نے خاندان، دوستوں اور جاننے والوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سانپ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کے کاٹنے کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال جانا ضروری ہے اور کسی قسم کی لاپروائی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سانپوں کو پکڑنے یا ان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش نہ کریں، خصوصاً برسات کے موسم میں جب سانپ زیادہ تعداد میں باہر نکلتے ہیں۔ فارم ہاؤسز، کھیتوں اور ویران مقامات پر خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔


