حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کی تلنگانہ کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمے کا پولیس نے پردہ فاش کرتے ہوئے ایسا انکشاف کیا ہے جس نے پورے ریاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق اس دل دہلا دینے والے قتل عام کے پیچھے مقتولین کی اپنی ہی بیٹی اور داماد کا ہاتھ نکلا، جنہوں نے جائیداد پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کی غرض سے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اپنے والدین اور دو معصوم بچوں کو قتل کرا دیا۔
پولیس کے مطابق مقتولین میں سلطان، ان کی اہلیہ حسینہ اور دو کمسن بچے جمیل اور 13 سالہ افسرہ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان نے پہلے بھی اسی گھر میں چوری کی واردات کرائی تھی تاکہ مستقبل میں اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
پولیس کے مطابق کرائے کے قاتل منصوبہ بندی کے تحت رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے سلطان کو قتل کیا گیا، اس کے بعد حسینہ کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ والدین کو قتل ہوتے دیکھ کر دونوں بچے خوفزدہ ہو کر بستر کے نیچے چھپ گئے، مگر قاتلوں نے انہیں بھی نہ بخشا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ جمیل کو بستر کے نیچے سے کھینچ کر نکالا گیا اور اس کے جسم پر متعدد وار کیے گئے۔ اس کے بعد 13 سالہ افسرہ نے اپنی جان کی بھیک مانگی اور قاتلوں کے سامنے گڑگڑاتی رہی، لیکن سفاک ملزمان نے اسے بھی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
چاروں افراد کو قتل کرنے کے بعد ملزمان نے گھر کے دروازے پر تالا لگا کر ایسے فرار ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
پولیس کے مطابق بیٹی اور داماد کو خدشہ تھا کہ اگر والدین زندہ رہے تو جائیداد ان کے ہاتھ نہیں آئے گی، اسی لالچ میں انہوں نے لاکھوں روپے کی سپاری دے کر پورے خاندان کو ختم کرانے کی سازش تیار کی۔
پولیس نے تمام مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس لرزہ خیز قتل کیس کی مکمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔


