حیدرآباد (دکن فائلز) وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وزارت کے مطابق پاسپورٹ بنیادی طور پر بین الاقوامی سفر کے لیے جاری کیا جانے والا ایک سرکاری سفری دستاویز ہے، جس کا مقصد بیرونِ ملک شہری کی شناخت اور سفر کو آسان بنانا ہے۔
یہ وضاحت ایک خصوصی بریفنگ کے دوران سامنے آئی جس میں ہندوستان کے تیزی سے پھیلتے ہوئے پاسپورٹ نظام، عالمی نقل و حرکت (موبلٹی) کے مواقع اور بیرونِ ملک روزگار سے متعلق حکومتی اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اگرچہ پاسپورٹ صرف ہندوستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد شہریت ثابت کرنا نہیں بلکہ بین الاقوامی سفر کو ممکن بنانا ہے۔ اس موقع پر آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ جیسے دیگر دستاویزات کے حوالے سے بھی عوامی سطح پر موجود ابہام کا ذکر کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاسپورٹ خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب کئی معاملات میں پاسپورٹ صرف پانچ ورکنگ دنوں میں جاری کیا جا رہا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کو پاسپورٹ سیوا کیندروں (PSKs) میں اوسطاً 45 منٹ سے بھی کم وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اصلاحات اور آسان طریقہ کار کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
بریفنگ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چِپ سے لیس ای پاسپورٹس کے ملک گیر نفاذ کا بھی ذکر کیا گیا۔ مئی 2025 سے جاری ہونے والے تمام نئے ہندوستانی پاسپورٹس میں جدید الیکٹرانک چِپ نصب کی جا رہی ہے، جس میں بائیومیٹرک معلومات اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیکیورٹی فیچرز شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پاسپورٹ جعل سازی کو روکنے، دستاویزات کی سیکیورٹی بڑھانے اور عالمی ہوائی اڈوں پر ان کی قبولیت کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزارت نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک بھر میں پاسپورٹ خدمات کے مراکز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں 545 پاسپورٹ سروس مراکز کام کر رہے ہیں، جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہیں۔ حکومت رواں سال مزید 20 نئے پاسپورٹ سیوا کیندر قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ ہدف یہ ہے کہ 2027 تک ہر لوک سبھا حلقے میں کم از کم ایک پاسپورٹ مرکز موجود ہو۔
حکام کے مطابق ملک کے تقریباً تمام پارلیمانی حلقوں تک پاسپورٹ خدمات کی رسائی ہو چکی ہے اور صرف 30 اضلاع ایسے ہیں جہاں ابھی مستقل مرکز قائم ہونا باقی ہے۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں خصوصی موبائل پاسپورٹ ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال منعقدہ خصوصی مہمات کے ذریعے تقریباً تین لاکھ افراد کو پاسپورٹ جاری کیے گئے، جنہیں پہلے ان سہولیات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
اگرچہ پاسپورٹ خدمات میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، لیکن ہندوستانی میں پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد اب بھی نسبتاً کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی صرف 10 فیصد آبادی کے پاس پاسپورٹ موجود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیم، روزگار اور کاروباری مواقع کے لیے بین الاقوامی سفر کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر مزید شہریوں کو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ترجیحی ہدف ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی نقل و حرکت کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ حکام کے مطابق ہندوستان نے 25 ممالک کے ساتھ 27 موبلٹی معاہدے کیے ہیں، جن میں یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا اور کئی خلیجی ممالک شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد طلبہ، محققین، پیشہ ور افراد، کاروباری شخصیات اور تربیتی پروگراموں سے وابستہ افراد کے لیے سفری اور روزگار کے مواقع کو آسان بنانا ہے۔
ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے عالمی سطح پر سفری سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت 27 ممالک ہندوستانی شہریوں کو ویزا فری داخلے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ 47 ممالک آمد پر ویزا (Visa on Arrival) فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 66 ممالک ای ویزا کی سہولت بھی پیش کر رہے ہیں۔
بیرونِ ملک ملازمتوں کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ اکتوبر 2022 میں متعارف کرائے گئے ای مائیگریٹ 2.0 پلیٹ فارم نے امیگریشن کلیئرنس کے عمل کو مزید شفاف اور تیز بنایا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اب تک تقریباً سات لاکھ ہندوستانی کارکن بیرونِ ملک ملازمت کے لیے کلیئرنس حاصل کر چکے ہیں۔ مزید برآں 17 پاسپورٹ دفاتر میں رینڈمائزڈ پراسیسنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ اور تاخیر میں کمی آئی ہے۔
حکومت بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی فلاح و بہبود پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ مختلف ممالک میں جانے والے افراد کو روانگی سے قبل متعلقہ ملک کی ثقافت، قوانین اور ملازمت سے متعلق ضروری تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آئندہ ہفتے ہندوستان ایک اہم “ہیومن ریسورس موبلٹی فورم” کی میزبانی کرے گا، جس میں جرمنی، اٹلی، جاپان، روس اور ڈنمارک سمیت متعدد ممالک شرکت کریں گے تاکہ ہنر مند ہندوستانی کارکنوں کو بہتر اور محفوظ روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزارت نے بتایا کہ خلیجی ممالک اور سنگاپور میں مقیم مشکلات کا شکار ہندوستانی خواتین کے لیے خصوصی امدادی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں قانونی مشاورت اور نفسیاتی معاونت جیسی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات انڈین کمیونٹی ویلفیئر فنڈ کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا وسیع تر مقصد پاسپورٹ کو ایک محدود طبقے کی سہولت سے نکال کر عام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی سفری دستاویز بنانا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی شہری عالمی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور بین الاقوامی نقل و حرکت کو محفوظ، منظم اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔


