حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں پاسپورٹ اور شہریت کے تعلق پر ایک نیا قانونی اور عوامی مباحثہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر صرف ایک سفری دستاویز ہے، اسے قانونی طور پر شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا، قانونی حلقوں اور سیاسی جماعتوں میں شدید بحث شروع ہوگئی کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں تو آخر ہندوستانی شہری ہونے کا سب سے مستند ثبوت کون سا ہے؟
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب وزارتِ خارجہ کے حکام نے کہا کہ پاسپورٹ کا بنیادی مقصد شہری کو بیرونِ ملک سفر کی سہولت فراہم کرنا اور دوسرے ممالک کے سامنے اس کی شناخت ظاہر کرنا ہے، نہ کہ ہندوستانی شہریت کو قانونی طور پر ثابت کرنا۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پاسپورٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو سرکاری فلاحی اسکیموں یا شہریت سے وابستہ آئینی حقوق کا خودکار دعویٰ حاصل نہیں ہو جاتا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
حکومتی وضاحت سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ متعدد افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت خود پولیس تصدیق، بائیو میٹرک جانچ اور دیگر قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد پاسپورٹ جاری کرتی ہے تو پھر اسے شہریت کا ثبوت کیوں نہیں مانا جا رہا؟
معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر نے اس موقف کو “غیر منطقی” قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر حکومت کو کسی شخص کی شہریت پر یقین نہیں تو پھر اسے پاسپورٹ جاری کرنے کا جواز کیا ہے؟
شیو سینا (ادھو) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے بھی حکومت سے وضاحت طلب کی، جبکہ سابق مرکزی وزیر اور سینئر وکیل کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ اگر پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی تینوں ہی شہریت کے قطعی ثبوت نہیں، تو آخر ہندوستانی شہری ہونے کا اصل ثبوت کون سا دستاویز ہے؟
حکومت نے کیا وضاحت دی؟
حکومتی ذرائع کے مطابق پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ضرور ہے، لیکن شہریت کے تعین کا بنیادی قانون نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاسپورٹ کا اجرا پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت ہوتا ہے، جبکہ شہریت کا تعین شہریت ایکٹ 1955 (Citizenship Act, 1955) کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہی قانون طے کرتا ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہے اور کن شرائط کے تحت کسی کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں قوانین کا دائرۂ کار الگ الگ ہے۔ ایک قانون سفری دستاویز جاری کرنے سے متعلق ہے جبکہ دوسرا کسی فرد کی قانونی شہریت کا تعین کرتا ہے۔
عدالت بھی یہی کہہ چکی ہے
یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ 2013 میں بامبے ہائی کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا تھا کہ صرف پاسپورٹ کا حامل ہونا کسی شخص کی شہریت کا “قطعی اور حتمی ثبوت” نہیں مانا جا سکتا، کیونکہ قانون بعض مخصوص حالات میں غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شہریت کا تعین ہمیشہ متعلقہ قانونی دفعات اور شہریت کے قوانین کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر۔
سابق سفارت کار کی وضاحت
ہندوستان کی سابق سیکریٹری خارجہ نروپما مینن راؤ نے بھی اس تنازع پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور عوامی تاثر میں فرق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پاسپورٹ ایک ایسا سرکاری دستاویز ہے جو دنیا بھر میں کسی فرد کی قومیت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن قانونی اعتبار سے شہریت کا فیصلہ Citizenship Act کے مطابق ہی کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاسپورٹ حکومت کی ملکیت ہوتا ہے، جسے حکومت مخصوص حالات میں منسوخ یا ضبط بھی کر سکتی ہے، جبکہ شہریت ایک الگ قانونی حیثیت ہے جسے مخصوص قانونی طریقہ کار کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پھر شہریت کا اصل ثبوت کیا ہے؟
ماہرین قانون اور حکومتی ذرائع کے مطابق پیدائش کا سرٹیفکیٹ (Birth Certificate) کسی شخص کی شہریت ثابت کرنے کے بنیادی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے، جبکہ جن افراد کو بعد میں شہریت دی جاتی ہے ان کے لیے Certificate of Citizenship اصل قانونی ثبوت ہوتا ہے۔
تاہم عملی طور پر پاسپورٹ اب بھی دنیا بھر میں کسی بھی شہری کی قومیت ظاہر کرنے والا سب سے زیادہ معتبر اور قابلِ قبول سرکاری دستاویز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس حکومتی وضاحت نے عوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ تنازع نے ہندوستان میں شناختی دستاویزات کے نظام پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آدھار، پین، ووٹر آئی ڈی اور پاسپورٹ سمیت مختلف سرکاری دستاویزات ایک دوسرے کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث عام شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر قانونی طور پر شہریت ثابت کرنے والا بنیادی دستاویز کون سا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اس معاملے پر جامع رہنما اصول جاری کرے تو عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں، کیونکہ قانونی تشریح اور عوامی فہم میں موجود فرق ہی اس پورے تنازع کی بنیادی وجہ بن گیا ہے۔


