حیدرآباد (دکن فائلز) انسانی حقوق کی تنظیم اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے راجستھان میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزارات کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں پر اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ پر جانبداری، مذہبی امتیاز اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 16 اور 17 جون کی درمیانی شب باڑمیر ضلع میں متعدد مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کو تحصیلدار کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے، جن میں ان عمارتوں کو سرکاری یا چراگاہ کی زمین پر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے ایک، دو یا تین دن کے اندر جواب طلب کیا گیا۔
اے پی سی آر کے وفد نے 19 اور 20 جون کو جودھ پور، باڑمیر اور جیسلمیر کا دورہ کیا اور متاثرین، مقامی وکلاء اور سماجی نمائندوں سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں مؤثر طریقے سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، حتیٰ کہ بعض مقامات پر تحریری جواب بھی قبول نہیں کیا گیا۔
تنظیم کے مطابق صرف باڑمیر میں 50 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزارات کو نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ 18 سے 21 جون کے درمیان کم از کم چھ مساجد کو منہدم کر دیا گیا۔ رپورٹ میں جام گڑھ مسجد، ملانہ مسجد، کیرکوری مسجد، سیاہی مسجد، کیلان کا پار مسجد اور دیوپورہ مسجد سمیت کئی مذہبی مقامات کے انہدام کا ذکر کیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں تجاوزات کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کا حصہ ہیں، تاہم مقامی باشندوں اور اے پی سی آر کا دعویٰ ہے کہ کئی مساجد کئی دہائیوں بلکہ پاک بھارت سرحد کے قیام سے بھی پہلے موجود تھیں، اس کے باوجود صرف مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اسی علاقے میں دیگر برادریوں کی تعمیرات کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں ہو رہیں۔
اسی سلسلے میں پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں “ہندوستان میں مساجد کا انہدام اور مذہبی آزادی پر حملے” کے عنوان سے ایک کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک محتشم خان، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، ڈاکٹر سیدہ حمید، جان دیال، ندیم خان اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
مقررین نے اس صورتحال کو مذہبی آزادی، آئینی مساوات اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہدامی کارروائیوں کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے عدالتی جنگ ہر حال میں جاری رہنی چاہیے، جبکہ محمد ادیب نے غیر قانونی انہدامی کارروائیوں میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف قانونی اور مالی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پندرہ دنوں میں اتر پردیش، اتراکھنڈ اور راجستھان میں کم از کم 20 مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کانفرنس کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ مذہبی آزادی کے تحفظ، آئینی حقوق کی پاسداری اور امتیازی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔


