صرف شک کی بنیاد پر اترپردیش پولیس کی برق رفتار کارروائی! خواتین پر گھر میں بیف پکانے کا الزام، مقدمہ بھی درج، گرفتاری بھی، گودی میڈیا میں ہنگامہ؛ اگر گوشت بیف نہ نکلا تو کیا ہوگا؟

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع کوشامبی میں محض شبہے کی بنیاد پر پولیس کی فوری کارروائی نے ایک بار پھر کئی قانونی اور سماجی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس نے تین خواتین کو اس الزام میں گرفتار کر لیا کہ وہ اپنے گھر میں مبینہ طور پر بیف پکا رہی تھیں۔ نہ صرف ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا بلکہ انہیں عدالت میں پیش کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا، جبکہ گوشت کی حتمی فرانزک رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیس کے مطابق بدھ کے روز اطلاع ملی تھی کہ ایک خاندان مبینہ طور پر گائے کا گوشت گھر لایا ہے اور اسے پکایا جا رہا ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد پولیس نے متعلقہ مکان پر چھاپہ مارا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران چار مرد موقع سے فرار ہوگئے جبکہ تین خواتین کو حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ مکان سے تقریباً ایک کلو کچا اور ایک کلو پکا ہوا گوشت برآمد کیا گیا، جس کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ واقعی گائے کا گوشت ہے یا نہیں۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیشیک سنگھ کے مطابق خواتین نے پوچھ گچھ میں دعویٰ کیا کہ گوشت ان کے اہل خانہ باہر سے لائے تھے۔ تاہم پولیس نے خواتین کے شوہروں اور ایک دوسرے شخص کی تلاش بھی شروع کر دی ہے، جو حال ہی میں ممبئی سے واپس آئے تھے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے سے پہلے ہی خواتین کے خلاف **اترپردیش انسدادِ گاؤ کشی قانون** کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا اور عدالت نے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر لیبارٹری کی رپورٹ میں ثابت ہو جائے کہ برآمد شدہ گوشت بیف نہیں تھا، تو ان خواتین کی گرفتاری، ان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اور میڈیا ٹرائل کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حتمی سائنسی رپورٹ سے قبل کسی بھی شہری کو مجرم قرار دینا یا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔

ادھر اس معاملے نے بعض ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر بھی زبردست ہنگامہ برپا کر دیا، حالانکہ پولیس خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ گوشت کے نمونوں کی فرانزک جانچ ابھی باقی ہے اور حتمی نتیجہ آنے کے بعد ہی گوشت کی نوعیت کی تصدیق ہو سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں