’مودی کا پیغام ہے – خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ‘، بھگیرتھ چودھری معاملے پر کانگریس کا سخت حملہ

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت بھگیرتھ چودھری پر اپنی ہی وزارت کی سبسیڈی اسکیم سے تقریباً 99 لاکھ روپے حاصل کرنے کے الزامات کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے اس معاملے کو اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور بدعنوانی قرار دیتے ہوئے نہ صرف ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرانے کی بھی اپیل کی ہے۔

انگریزی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “مودی کا پیغام ہے – خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ۔”

کانگریس کے مطابق بھاگیرتھ چودھری نے کھیرے کی کاشت کے لیے اپنی ہی وزارت کے تحت جاری ہونے والی سبسیڈی اسکیم سے تقریباً 99 لاکھ روپے کی مالی امداد حاصل کی۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وزیر بننے کے چند ہی ماہ بعد اپریل 2025 میں سبسیڈی کی درخواست دی گئی اور صرف 14 دن کے اندر اسے منظوری بھی مل گئی، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ یہ ایک واضح مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) اور سرکاری عہدے کے مبینہ ناجائز استعمال کا معاملہ ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایک مرکزی وزیر اپنی وزارت کی اسکیموں سے خود فائدہ اٹھائے تو اس سے شفافیت اور حکومتی احتساب پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

اپوزیشن جماعت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں بدعنوانی کے خلاف “زیرو ٹالرنس” کا دعویٰ صرف نعروں تک محدود ہے، جبکہ حقیقت میں وزراء کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔

کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ بھاگیرتھ چودھری فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور پورے معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔

دوسری جانب بی جے پی یا مرکزی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس مسئلے پر بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں