غزہ پر خاموشی اب مزید قابلِ قبول نہیں، ہندوستان کو فلسطینی عوام کے حق میں جرأت کے ساتھ آواز بلند کرنی چاہیے: سونیا گاندھی، راہل گاندھی کی مکمل حمایت

حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ میں جاری انسانی المیے، ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہریوں بالخصوص بچوں کی ہلاکتوں اور تباہ حال انسانی صورتحال پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مرکزی حکومت کی خاموشی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان اپنی تاریخی، اصولی اور متوازن خارجہ پالیسی کی طرف واپس لوٹے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں کھل کر آواز بلند کرے۔

انگریزی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے خصوصی مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ ہندوستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق کا حامی رہا ہے، لیکن غزہ میں جاری تباہی کے باوجود موجودہ حکومت کی خاموشی نہ صرف افسوسناک بلکہ ہندوستان کی سفارتی روایت کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر، زخمی اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینی بچوں کی معصوم جانوں کا ضیاع پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ ہے۔

سونیا گاندھی نے واضح کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ ناقابل قبول اور قابل مذمت تھا، تاہم اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کر دی ہے جسے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی سونیا گاندھی کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو اپنی آزاد خارجہ پالیسی، اخلاقی اقدار اور تاریخی ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستانی قومیت کی روح کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کریں، جن کے معصوم بچوں کو بے رحمی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی ہندوستان کو تیزی سے ایک ایسے سفارتی دائرے میں لے جا رہی ہے جہاں اس کی روایتی غیرجانبداری اور عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملے کو بھی ووٹ بینک کی سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے کہا کہ ہندوستان فلسطین کے لیے انسانی امداد بھی فراہم کر رہا ہے اور اقوام متحدہ میں بھی اپنا موقف متعدد بار واضح کر چکا ہے۔

تاہم غزہ میں روز بروز بڑھتی ہوئی انسانی تباہی، بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی اموات نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ایسے میں سونیا گاندھی کی جانب سے انسانی بنیادوں پر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کے مطالبے کو کئی حلقوں میں ایک اہم اخلاقی اور انسانی موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو اپنی تاریخی سفارتی روایت، انصاف اور انسانیت کے اصولوں کے مطابق مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں