عالمِ اسلام کی معروف شخصیت و ممتاز عالم دین مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال

حیدرآباد (دکن فائلز) برصغیر کے نامور عالمِ دین، ممتاز محدث، مفکر، مصنف، شعلہ بیان خطیب اور دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے سابق استاد حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی پیر 29 جون 2026ء کو 72 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

“”دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاد، درجنوں علمی اداروں کے بانی اور بین المذاہب مکالمے کے داعی 72 برس کی عمر میں لکھنؤ میں انتقال کر گئے، نمازِ جنازہ آج ملیح آباد میں ادا کی جائے گی””

مولانا سید سلمان حسینی ندوی گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق انہوں نے آج علی الصبح اپنے خالقِ حقیقی سے وفات پائی۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ہندوستان سمیت دنیا بھر کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف دینی اداروں، علماء، دانشوروں، شاگردوں اور عوامی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انہیں عصر حاضر کے مؤثر ترین اسلامی مفکرین میں شمار کیا جا رہا ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مولانا کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عصر جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد (لکھنؤ) میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں وہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

علمی خانوادے کے چشم و چراغ
مولانا سید سلمان حسینی ندوی 1954ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق برصغیر کے ایک نہایت ممتاز علمی اور دینی خانوادے سے تھا۔ آپ کے والد مولانا سید محمد طاہر حسینی تھے، جبکہ آپ عظیم اسلامی مفکر اور مصنف علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی (علی میاں) کے سگے بھتیجے تھے۔ سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی بھی آپ کے قریبی بزرگوں میں شامل تھے۔ اسی علمی ماحول نے مولانا کی شخصیت، فکر اور دعوتی مزاج کو پروان چڑھایا۔

تعلیم اور علمی سفر
مولانا نے ابتدائی تعلیم کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے حفظِ قرآن، عالمیت اور فضیلت کی تکمیل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب کی جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں داخلہ لیا، جہاں سے 1980ء میں حدیث شریف میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ معروف محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ کی نگرانی میں مکمل ہوا، جسے علمی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔

چالیس برس تک تدریسِ حدیث
تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا سید سلمان حسینی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ ہوئے اور تقریباً چار دہائیوں تک حدیث شریف کی تدریس انجام دیتے رہے۔ ان کے ہزاروں شاگرد آج ہندوستان، مشرقِ وسطیٰ، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک میں دینی، تعلیمی اور دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ان کا تدریسی انداز تحقیق، استدلال، اعتدال اور وسعتِ نظر کا حسین امتزاج تھا۔ وہ طلبہ کو صرف روایتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عصری تقاضوں کو سمجھنے، علمی تحقیق اور مثبت مکالمے کی تلقین کرتے تھے۔

متعدد تعلیمی و رفاہی اداروں کے بانی
مولانا مرحوم نے 1974ء میں جمعیت شباب اسلام کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت تھا۔

1985ء میں انہوں نے جامعہ سید احمد شہید قائم کیا، جو آج اہم دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی سرپرستی میں متعدد مدارس، پچاس سے زائد مکاتب، لڑکیوں کے لیے کلیۃ حفصہ للبنات، مختلف حراء اسکولز، ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال اور کئی رفاہی و تعلیمی منصوبے وجود میں آئے، جن سے ہزاروں طلبہ اور عوام مستفید ہوئے۔

علمی سرمایہ اور تصانیف
مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے حدیث، علومِ قرآن، فقہ، اسلامی سیاست، تعلیم، تاریخ اور عصری مسائل پر عربی اور اردو میں متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔

حدیث کے موضوع پر ان کی معروف کتابوں میں لمحۃ عن علم الجرح والتعدیل، دروس من الحدیث النبوی الشریف، مفردات القرآن للبخاری، المقدمۃ فی اصول الحدیث اور بین اہل الرأی و اہل الحدیث شامل ہیں۔

جبکہ اردو زبان میں ہمارا نصابِ تعلیم کیا ہو؟، ترتیب و تدوینِ قرآنی، آخری وحی، علماء اور سیاست، انتخابِ تفاسیر، قرآن کی ترتیبِ نزولی، مختصر تاریخِ فلسطین اور عالمی سیاسی نظریات اور اسلامی سیاست جیسی تصانیف علمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔

بین المذاہب مکالمے کے داعی
مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے ہمیشہ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمے اور امن کو فروغ دینے پر زور دیا۔ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز پر اسلام، شریعت، تعلیم، بین المذاہب ہم آہنگی اور امتِ مسلمہ کے مسائل پر مدلل انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے۔

2018ء میں انہوں نے ایودھیا تنازع کے حل کے لیے بات چیت کے ذریعے مصالحت کی کوششوں میں بھی حصہ لیا۔ اس سلسلے میں ان کی روحانی رہنما سری سری روی شنکر کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ مولانا کا مؤقف تھا کہ حساس قومی تنازعات کو مکالمے، باہمی احترام اور امن کے جذبے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کی اس رائے پر ملک بھر میں وسیع بحث ہوئی، بعض حلقوں نے اس کی حمایت کی جبکہ بعض دینی تنظیموں نے اختلاف بھی کیا۔ بعد ازاں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، جس کے بعد وہ بورڈ سے الگ ہو گئے۔

علمی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی رحلت کو علمی، دینی اور فکری دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تحقیق، دعوت، اصلاحِ معاشرہ، نوجوانوں کی تربیت اور اسلامی علوم کی ترویج کے لیے وقف کر دی۔ ان کی ہزاروں تصانیف، خطابات، شاگرد اور قائم کردہ تعلیمی ادارے ان کے علمی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔

ان کے انتقال پر مختلف مذہبی، سماجی اور تعلیمی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مولانا کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور پوری امتِ مسلمہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں