ایس آئی آر کا خوف! ووٹر لسٹ سے نام غائب ہونے کا صدمہ… تین بچوں کے باپ شیخ مجیب الرحمن نے خودکشی کرلی

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک 40 سالہ کیب ڈرائیور نے محض اس خوف سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا کہ اس کا نام انتخابی فہرست سے خارج ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متوفی کی شناخت شیخ مجیب الرحمن کے طور پر ہوئی ہے، جو بورا بندہ علاقے کے رہنے والے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ گزشتہ ایک ماہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کے عمل کے دوران اپنے نام کے غائب ہونے کا خوف ان پر اس قدر طاری ہو چکا تھا کہ انہوں نے کھانا پینا بھی تقریباً چھوڑ دیا تھا۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب، تقریباً 3 بجے، انہوں نے اپنے گھر میں پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ان کی اہلیہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں، جن میں سے دو ذہنی معذوری کا شکار ہیں۔ شوہر کو سب سے زیادہ فکر انہی بچوں کے مستقبل کی تھی۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ اگر ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا تو انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا، اور پھر ان کے بچوں کا کیا ہوگا؟

اہلِ خانہ کے مطابق مرحوم نے مختلف دستاویزات حاصل کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ ایک ہی شخص کے مختلف کاغذات میں نام کے فرق اور والدہ کے دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ یہاں تک کہ پاسپورٹ میں ایک غلطی درست کروانے کے لیے بھی انہوں نے بڑی رقم خرچ کی۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بورا بندہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔ اطلاع ملنے پر لاش کو گاندھی اسپتال کے مردہ خانے منتقل کیا گیا اور کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ریاست میں 25 جون سے گھر گھر سروے کا عمل جاری ہے، جس کے تحت اب تک ایک کروڑ سے زائد فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اس افسوسناک واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا عوام میں پھیلنے والا خوف اور غیر یقینی صورتحال کسی بڑے سانحے کا سبب بن رہی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کو اجاڑ گیا بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک لمحۂ فکریہ چھوڑ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں