تلنگانہ: رنگاریڈی میں لرزہ خیز واردات! پوکسو کیس کے ملزم نے بیوی، دو بچوں سمیت 6 افراد کو قتل کر دیا

حیدرآباد (دکن فائلز): تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع کے شاہ آباد منڈل میں ہفتہ کی علی الصبح ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں پوکسو (POCSO) قانون کے تحت درج مقدمے میں نامزد ملزم نے مبینہ طور پر چھ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ مرنے والوں میں ملزم کی بیوی، اس کے دو کمسن بچے، مقدمہ درج کرانے والی 17 سالہ لڑکی، اس کی والدہ اور نانی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم راج کمار اس وقت مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے سات خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واردات مئی 2026 میں اس کے خلاف درج پوکسو کیس سے جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے، تاہم اصل محرک کا تعین مزید تفتیش کے بعد ہوگا۔

تحقیقات کے مطابق ملزم پہلے مقتولہ لڑکی کے گھر پہنچا جہاں اس نے لڑکی کی والدہ اور نانی کو اس وقت قتل کر دیا جب انہوں نے مزاحمت کی۔ بعد ازاں وہ لڑکی کو زبردستی اپنی گاڑی میں لے گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی مبینہ طور پر لڑکی کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اسے دیوالا گوڑہ کے قریب ایک ویران مقام پر لے گیا جہاں اس کا قتل کر دیا گیا۔ جنسی زیادتی کے پہلو کی بھی فارنسک رپورٹ کی بنیاد پر جانچ جاری ہے۔

اس کے بعد ملزم اپنے گھر واپس آیا اور اپنی 30 سالہ بیوی پروتی سریتا اور دو کمسن بیٹوں، تین سالہ پریکشت اور دو سالہ دیوکشِت کو بھی قتل کر دیا۔ تمام مقتولین کے جسم پر تیز دھار ہتھیار سے حملوں کے نشانات پائے گئے۔

پولیس کمشنر ترون جوشی کے مطابق واردات کے بعد ملزم نے اپنے والد کو فون کر کے اعتراف کیا کہ اس نے چھ افراد کو قتل کر دیا ہے اور خودکشی کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد اس نے اپنا موبائل فون بند کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش جاری ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ راج کمار کو مئی میں نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس کی ذہنی کیفیت اور ماضی کے بعض رویوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادھر واقعے کے بعد شاہ آباد پولیس اسٹیشن کے باہر مقتولین کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے ہی مؤثر کارروائی کی جاتی تو یہ المناک سانحہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں