حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مفاہمتی عمل کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کے اس غیر متوقع اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی، خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو پوری دنیا ایک نئے معاشی بحران اور مہنگائی کی لہر کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) اور جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ “میرے خیال میں ایران کے ساتھ بات چیت ختم ہو چکی ہے۔ میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ ان سے مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔” صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ رات ایران میں فوجی کارروائی اس لیے کی کیونکہ ایران کی جانب سے حملے کیے گئے تھے اور ان کا جواب دینا ضروری تھا۔
ان کے مطابق “ہم نے پہلے ہی ایران کو خبردار کر دیا تھا کہ اگر وہ حملہ کرے گا تو امریکہ بھی بھرپور جواب دے گا۔” ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنا ہے اور واشنگٹن کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہاکہ “اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو وہ ضرور استعمال کرے گا، اسی لیے ہم اسے ہر قیمت پر روکیں گے۔” امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں “انتہائی خطرناک لوگ” قرار دیا۔
انہوں نے ایران کو “کینسر” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہاکہ *”کینسر کا علاج یہی ہوتا ہے کہ اسے ابتدا ہی میں ختم کر دیا جائے، ایران کے بارے میں بھی میری یہی سوچ ہے۔” ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی سابق فوجی قیادت ختم ہو چکی ہے اور وہاں نئی قیادت سامنے آ رہی ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے اس کی تصدیق ہو سکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو کے کردار پر بھی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکہ کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نیٹو کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، اس لیے دیگر رکن ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
ٹرمپ نے کہاکہ “امریکہ کو نیٹو کی اتنی ضرورت نہیں جتنی نیٹو کو امریکہ کی ہے۔” انہوں نے اسپین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس وقت وہ اسپین کے ساتھ تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ ٹرمپ کے بیان اور امریکہ و ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا:
* برینٹ کروڈ تقریباً 78.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
* امریکی خام تیل (WTI) تقریباً 74.85 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
* مربان کروڈ بھی بڑھ کر 73.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ، بجلی، خوراک اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ ادھر یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں تقریباً 1.6 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہونے لگے۔
امریکی ڈالر اور سرکاری بانڈز کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ عالمی سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ وسیع جنگ شروع ہوئی تو عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ امریکی اور ایرانی حکام کے بیانات کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے مفادات اور فوجی اہداف پر حملے کیے۔ امریکہ نے ایران کے بعض ساحلی علاقوں اور عسکری اہداف پر کارروائیاں کیں، جبکہ ایران نے بھی خطے میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی اقدامات کیے۔
اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو بے سود قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی سخت پالیسی برقرار رکھے گا۔ سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی تجارت، سمندری راستوں، افراطِ زر اور سرمایہ کاری پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
فی الحال دنیا کی نظریں امریکہ اور ایران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت اور امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔


