حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع سہارنپور کی تحصیل دیوبند میں ضلعی انتظامیہ نے سرکاری زمین پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی مذہبی عمارتوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے چھ مساجد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس اقدام کے بعد مقامی مسلم آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ کئی دہائیوں سے زیر استعمال عبادت گاہوں کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ایک سروے کے دوران مجموعی طور پر 11 مقامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں مساجد، مدارس اور مزارات شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر قائم ہیں۔ ان میں سے چھ معاملات میں نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی پانچ کیسوں کی جانچ جاری ہے۔
انتظامیہ نے متعلقہ افراد کو 15 دن کے اندر مبینہ غیر مجاز تعمیرات ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں کارروائی نہ کی گئی تو قانون کے مطابق مزید اقدامات کرتے ہوئے زمین کا قبضہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
نوٹس موصول کرنے والی عبادت گاہوں میں نگل تھانہ کے تحت واقع پنڈولی گاؤں کی مدینہ مسجد بھی شامل ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہ مسجد تقریباً 35 سال قبل کھدر کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہ جگہ کچرا پھینکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ بعد ازاں مقامی لوگوں نے علاقے کو صاف رکھنے اور گندگی سے بچانے کے لیے وہاں مسجد تعمیر کی۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا، “تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہاں برسوں سے لوگ سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے آ رہے ہیں۔” مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ گاؤں کی مذہبی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی مخصوص مذہب یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، اور تمام معاملات قانون کے مطابق دیکھے جا رہے ہیں۔
اب تمام نظریں نوٹس میں دی گئی 15 روزہ مہلت پر مرکوز ہیں، جس کے بعد آئندہ کارروائی متعلقہ فریقین کے جواب اور قانونی عمل پر منحصر ہوگی۔


