بریکنگ نیوز: حماس کا تاریخی فیصلہ، تقریباً 20 سال بعد غزہ کی حکومت تحلیل، اقتدار ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک غیر معمولی اور تاریخی سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے غزہ میں تقریباً دو دہائیوں سے قائم اپنی حکومتی انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت غزہ کے سول اور انتظامی اختیارات مرحلہ وار ایک نئی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کیے جائیں گے، جسے “نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو غزہ کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

حماس کے زیر انتظام گورنمنٹ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے اعلان کیا کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے اور موجودہ حکومتی ڈھانچہ تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا سکے۔ ان کے مطابق صرف تکنیکی اور پیشہ ورانہ عملہ عارضی طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا تاکہ عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

حماس نے حکومت کیوں ختم کی؟
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے غزہ کی براہ راست حکمرانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے یا غزہ پر حملوں کا کوئی سیاسی جواز نہ مل سکے۔ ان کے مطابق حماس اقتدار کی منتقلی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور نئی انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی ٹیکنوکریٹ کمیٹی جلد غزہ پہنچ کر انتظامی امور سنبھالے گی، جس سے جنگ بندی، تعمیر نو اور امن مذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار ہوگی۔

کون سنبھالے گا غزہ کا انتظام؟
غزہ کی نئی انتظامی باگ ڈور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے سپرد کی جائے گی۔ اس کمیٹی میں فلسطینی ماہرین، ٹیکنوکریٹس اور غیر سیاسی شخصیات شامل ہیں، جبکہ اس کی سربراہی فلسطینی رہنما علی شعث کر رہے ہیں۔

یہ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم کی گئی تھی، تاہم اسرائیل کی جانب سے غزہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث اس کے ارکان اب تک قاہرہ میں موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال نہیں سکے۔

حماس کی حکومت کا خاتمہ، لیکن ہتھیاروں کا کیا ہوگا؟
اگرچہ حماس نے سول حکومت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم تنظیم نے اپنے عسکری ونگ اور اسلحے کے مستقبل پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرتیں اور مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت نہیں دی جاتی، اسلحے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی منتقلی کے باوجود غزہ میں حماس کا عملی اثر و رسوخ فوری طور پر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

عالمی ردعمل اور اسرائیلی تحفظات
حماس کے فیصلے کو بعض حلقوں نے امن عمل کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام اور بعض مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ صرف انتظامیہ کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ زمینی سطح پر عملی اقدامات اور عسکری ڈھانچے میں تبدیلی بھی ضروری ہوگی۔

امریکی بورڈ آف پیس نے بھی کہا ہے کہ حتمی رائے اعلانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قائم کی جائے گی۔

2007 سے 2026 تک حماس کی حکمرانی
حماس نے 2007 میں غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس کے بعد تقریباً 20 برس تک علاقے کے سیاسی اور انتظامی امور سنبھالتی رہی۔ اس عرصے میں غزہ متعدد جنگوں، اسرائیلی محاصرے، انسانی بحران اور معاشی مشکلات سے گزرا۔

ماہرین کے مطابق اگر اختیارات کی یہ منتقلی کامیابی سے مکمل ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف فلسطینی سیاست بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کا مستقبل جنگ بندی، اسرائیلی مؤقف، نئی کمیٹی کے غزہ میں داخلے اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی کامیابی پر منحصر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں