حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں معروف عالم دین مولانا جرجیس انصاری کے خلاف متنازع بیان دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ مولانا نے ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بھگوان شری کرشن بھی “نمازی” تھے، جس کے بعد ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق مختلف ہندو تنظیموں کی شکایت پر لکھنؤ کے علاقے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ مولانا جرجیس انصاری کے بیان سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مولانا جرجیس انصاری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء ایک ہی خدا کی عبادت کرتے رہے، اور انہوں نے اپنے بیان کے دوران شری کرشن کے حوالے سے بھی متنازع دعویٰ کیا، جس پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی ہندو مذہبی اور سماجی تنظیموں نے احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ اس قسم کے بیانات معاشرے میں مذہبی منافرت کو ہوا دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی صداقت، مکمل سیاق و سباق اور بیان کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب مولانا جرجیس انصاری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ مذہبی شخصیات سے متعلق ایسے دعوے عوامی جذبات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات یا اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ معاملے کی قانونی جانچ جاری ہے اور حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔


