حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے واضح کر دیا ہے کہ ووٹر فارم پُر کرتے وقت معمولی سی غلطی بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
انتخابی حکام کے مطابق ریاست میں 19 لاکھ سے زائد اندراجات میں مختلف نوعیت کی خامیاں پائی گئی ہیں، جن میں تقریباً 2 لاکھ ایسے ووٹر شامل ہیں جن کے والدین کی عمریں ان سے صرف 15 برس یا اس سے بھی کم زیادہ درج ہوئیں، جبکہ 92 ہزار سے زائد ووٹروں کے دادا دادی یا نانا نانی کی عمریں بھی غیر حقیقی طور پر کم درج پائی گئیں۔ یہ خامیاں زیادہ تر فارم پُر کرنے یا اندراج کے دوران ہونے والی غلطیوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہیں۔
اتراکھنڈ کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ہر شہری کو اپنی معلومات انتہائی احتیاط سے درج کرنی چاہیے۔ اگر نام، عمر، والد یا والدہ کا نام، رشتہ داری یا دیگر تفصیلات غلط درج ہو جائیں تو بعد میں وضاحت دینا پڑ سکتی ہے، اور بعض صورتوں میں اگر بروقت تصحیح نہ کی جائے تو ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا بھی اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس وقت تلنگانہ میں بھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں عوام سے گزارش ہے کہ وہ فارم جلد از جلد جمع کریں اور ہر خانے کو پوری توجہ کے ساتھ پُر کریں۔ اگر کسی بات میں شبہ ہو تو اندازے سے معلومات درج کرنے کے بجائے ماہرین سے مشورہ حاصل کریں۔
شہریوں کو چاہیے کہ مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، مختلف مسلم تنظیموں یا دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے قائم کیے گئے ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک سے استفادہ کریں، تاکہ فارم درست انداز میں پُر کیا جا سکے۔ اسی طرح اگر بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کسی دستاویز، وضاحت یا اصلاح کی ہدایت دے تو اس پر فوری عمل کریں اور مطلوبہ کاغذات بروقت جمع کرائیں۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے فارم وقت سے پہلے جمع کر دینا بہتر ہے، تاکہ اگر کسی قسم کی خامی سامنے آئے تو اسے درست کرنے کے لیے مناسب وقت دستیاب ہو۔ درست معلومات فراہم کرنا ہر ووٹر کی ذمہ داری ہے اور یہی شفاف ووٹر فہرست کی بنیاد بھی ہے۔
ووٹ ایک جمہوری حق ہی نہیں بلکہ ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔ اس لیے ہر اہل شہری کو چاہیے کہ وہ ایس آئی آر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے، اپنی معلومات کی درستگی کو یقینی بنائے اور اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ ایک معمولی سی غفلت یا غلط اندراج مستقبل میں ووٹ کے حق سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ بروقت احتیاط آپ کے جمہوری حق کا تحفظ یقینی بنا سکتی ہے۔


