ہندو طالب علم کو دینیات کا ہوم ورک؟ ہندوتوا شدت پسندوں کا غیرضروری واویلا! بی جے پی اور گودی میڈیا کی جانب سے مسلمانوں اور پرانے شہر کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش! والدین کا ذمہ دارانہ فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد پرانے شہر کے سعید آباد علاقہ میں واقع ایک نجی اسکول میں پیش آنے والے ایک معمولی تعلیمی واقعہ کو بعض شدت پسند ذہن رکھنے والے عناصر، ہندوتوا تنظیموں، بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی اور کچھ نفرتی گودی میڈیا کی جانب سے غیر ضروری طور پر مذہبی اور سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ متعلقہ ٹیچر نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کرلی، اسکول انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کردیا اور متاثرہ ہندو طالب علم کے والدین نے بھی معافی قبول کرتے ہوئے اپنی شکایت واپس لے لی۔

تفصیلات کے مطابق سعید آباد میں واقع سکسیس دی اسکول میں دوسری جماعت کے ایک ہندو طالب علم کی اسکول ڈائری میں غلطی سے “دینیات” کے مضمون کے تحت کلمہ اور سورۂ فاتحہ سے متعلق ہوم ورک درج کردیا گیا۔ طالب علم کے والدین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا اور معاملہ ان کے علم میں لایا۔

اسکول انتظامیہ نے شکایت موصول ہوتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ادارے کی پالیسی نہیں بلکہ متعلقہ ٹیچر کی انفرادی غلطی تھی۔ انتظامیہ نے نہ صرف ٹیچر کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا بلکہ آئندہ کے لیے بھی انہیں اپنے تعلیمی اداروں میں ملازمت کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ اسکول نے یہ بھی وضاحت کی کہ ادارے میں مسلم طلبا کے لیے دینیات کا الگ مضمون موجود ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے طلبا پر ایسا کوئی نصاب نافذ نہیں کیا جاتا۔

بعد ازاں متعلقہ ٹیچر نے بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے طالب علم کے والدین سے معذرت کی۔ والدین نے اس معذرت کو قبول کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے نام تحریری خط میں واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتے، شکایت واپس لیتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے اسکول کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا بھی اظہار کیا۔

عام طور پر ایسے معاملات میں، جب فریقین کے درمیان بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے، معافی قبول کرلی جائے اور ادارہ بھی ذمہ دار فرد کے خلاف کارروائی کرچکا ہو، تو معاملہ وہیں ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس واقعہ میں بعض سیاسی جماعتوں اور انتہا پسند ذہن رکھنے والے عناصر نے اسے مذہبی کشیدگی پیدا کرنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے اس واقعہ پر سخت بیانات دیتے ہوئے اسکول کے خلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض تنظیموں نے احتجاج اور مظاہروں کی کوشش بھی کی۔ واضح رہے کہ جب متاثرہ خاندان خود معاملہ رفع دفع کرچکا ہے، معافی قبول ہوچکی ہے اور ذمہ دار ٹیچر کے خلاف کارروائی بھی ہوچکی ہے، تو پھر اس مسئلے کو مسلسل زندہ رکھنا محض سیاسی مفادات کی تکمیل کے مترادف ہے۔

حیدرآباد کا پرانا شہر صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے درمیان گنگا جمنی تہذیب، باہمی احترام اور ہم آہنگی کی علامت رہا ہے۔ چند انفرادی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پورے علاقے یا ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر کسی ادارے یا فرد سے غلطی سرزد ہوتی ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہوئے اصلاحی اقدامات بھی کرلیتا ہے، تو اس کے باوجود نفرت انگیز بیانات، اشتعال انگیز مہمات اور سیاسی فائدے کے لیے عوامی جذبات کو بھڑکانا معاشرے کے مفاد میں نہیں۔

شہریوں نے بھی اپیل کی ہے کہ مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور حیدرآباد کی مشترکہ تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے واقعات کو غیر ضروری طور پر سیاسی یا مذہبی تنازع میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے اور قانون و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے معاملات کو حل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں