ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس! کیا ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے پر سرکاری فلاحی اسکیمیں بھی بند کی جا سکتی ہیں؟ الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال حکومت سے جواب طلب

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے والے افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم کیے جانے کے معاملے پر اہم سوال اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بینچ نے کہا کہ اس اہم آئینی اور قانونی مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا اور اشارہ دیا کہ آئندہ سماعت 25 جولائی سے قبل مقرر کی جا سکتی ہے۔

یہ درخواست پرسنجیت بوس کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کا نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے حذف ہو جائے، تو صرف اسی بنیاد پر اسے راشن (PDS)، انّاپورنا یوجنا اور دیگر سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ سے اخراج کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شہری کے دیگر قانونی اور سماجی حقوق بھی ختم ہو جائیں۔

درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت قائم خصوصی ٹریبونلز میں تقریباً 34 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک صرف 38 ہزار اپیلوں کا فیصلہ ہو سکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت صرف 19 ٹریبونلز کام کر رہے ہیں اور ان میں سے دو جج استعفیٰ دے چکے ہیں، جس کے باعث مقدمات کی سماعت سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے بعد متاثرہ افراد کو راشن، اناپورنا اسکیم، ذات (کاسٹ) سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور دیگر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کی شہریت سے متعلق معاملہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران جسٹس جوی مالیا باگچی نے کہا کہ عدالت اس مسئلے سے پہلے بھی نمٹ چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بہار ایس آئی آر کیس میں سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ الیکشن کمیشن صرف ووٹر لسٹ سے متعلق فیصلہ کر سکتا ہے، کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ نہیں۔ اگر کسی معاملے میں شہریت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اسے متعلقہ وزارت کے پاس شہریت ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے لیے بھیجنا ہوگا۔

درخواست گزار کے وکیل نے جواب میں کہا کہ اگرچہ قانونی پوزیشن واضح ہے، لیکن زمینی سطح پر لوگوں کو فوری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی فلاحی اسکیمیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ قانون اس معاملے میں پہلے ہی واضح ہے اور الیکشن کمیشن کا اختیار صرف انتخابی فہرستوں تک محدود ہے۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے یہ بھی اپیل کی کہ خصوصی ٹریبونلز کو اپنی کارروائی زیادہ شفاف بنانے کا حکم دیا جائے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ٹریبونلز اپنی ویب سائٹس قائم کریں، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر اور اپنے فیصلے عوامی سطح پر جاری کریں تاکہ متاثرہ افراد کو عدالتی کارروائی کی مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔

سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کسی شخص کے پاس پاسپورٹ جیسی مضبوط دستاویز موجود ہے تو پھر اس سے اضافی شہادتیں کیوں طلب کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں مزید دستاویزات کا مطالبہ غیر ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت آئندہ ہفتے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیس پر آنے والا فیصلہ نہ صرف مغربی بنگال بلکہ ان تمام ریاستوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے یا مستقبل میں کیا جانا ہے، کیونکہ اس سے یہ اصول واضح ہو سکتا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کا سرکاری فلاحی اسکیموں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں