حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے گانجہ اور دیگر منشیات کے خلاف سخت مہم شروع کیے جانے کے بعد اب نوجوان نشے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے لگے ہیں۔ پولیس کے مطابق بعض گروہ درد کش اور ذہنی امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی نسخے والی ادویات (Schedule H1 Drugs) کو غیر قانونی طریقے سے فروخت کر رہے ہیں، جنہیں نوجوان نشہ حاصل کرنے کے لیے غلط انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ جو نشہ پہلے بڑے شہروں تک محدود تھا، اب نہ صرف حیدرآباد گلیوں تک محدود ہے بلکہ وہ دیہی علاقوں، قبائلی بستیوں اور دور دراز کے دیہات تک بھی پہنچ چکا ہے۔ عادل آباد ضلع میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سامنے آنے والے مسلسل واقعات نے پولیس اور محکمہ صحت کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
عادل آباد کے اٹنور میں پولیس نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جو درد کش ممنوعہ گولیوں کو پیس کر پانی میں ملا کر سرنج کے ذریعے رگوں میں داخل کر کے نشہ کرتا تھا۔ اٹنور کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رتوک سائی کوٹے نے بتایا کہ پولیس نے عیدگاہ کے قریب معمول کی چیکنگ کے دوران چند نوجوانوں کو مشتبہ حالت میں پکڑا۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ وہ ممنوعہ ادویات کو نشہ آور مادے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ایک فارماسسٹ کدم شیکھر بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے نوجوانوں کو یہ ادویات فروخت کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ چوہان نکھل راج اور پوڈیٹی ونشی کرشنا سمیت دیگر نوجوان ان گولیوں کو خرید کر نشے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
پولیس نے اس معاملے میں فارماسسٹ کدم شیکھر، چوہان نکھل راج اور پوڈیٹی ونشی کرشنا کو گرفتار کرکے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان اب بھی فرار ہیں۔ کارروائی کے دوران پولیس نے بڑی مقدار میں ممنوعہ گولیاں، سرنجیں اور موبائل فون بھی ضبط کیے۔
اس سے صرف دو روز قبل عادل آباد ٹو ٹاؤن پولیس نے کیمیکل ڈرگز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ایک اور گروہ کو گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی میں سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس نیٹ ورک سے 190 انسولین سرنجیں، 50 ٹرمِن (Termin) انجیکشن بوتلیں، دو موبائل فون اور ایک اسکوٹی ضبط کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گانجہ کے خلاف سخت کارروائیوں کے بعد نشہ کرنے والے نوجوان اب متبادل ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ بعض فارما ڈیلرز بے ضابطگی سے اینستھیزیا انجیکشن اور دیگر نسخے والی ادویات فروخت کر رہے ہیں، جس سے نوجوان تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
پولیس نے فارمیسی مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر شیڈول H1 ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ انہیں منشیات کی لعنت سے بچایا جا سکے۔


