حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان نے خلائی شعبے میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کسی نجی کمپنی کے تیار کردہ مداری راکٹ “وکرم-1” کو کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا۔ حیدرآباد کی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس (Skyroot Aerospace) کی جانب سے تیار کردہ اس راکٹ نے چھ پے لوڈز (Payloads) کو کامیابی کے ساتھ لو ارتھ آربٹ (Low Earth Orbit) میں پہنچا دیا۔
وکرم-1 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے “مشن آگمن” کے تحت لانچ کیا گیا۔ لانچ سے چند منٹ قبل خودکار نظام نے حفاظتی جانچ کے باعث الٹی گنتی روک دی تھی، جس کے بعد تقریباً 35 منٹ کی تاخیر سے راکٹ کو کامیابی کے ساتھ روانہ کیا گیا۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوستان کی کسی نجی کمپنی نے مکمل طور پر تیار کردہ مداری راکٹ کے ذریعے کامیاب خلائی مشن انجام دیا، جسے ہندوستان کے نجی خلائی شعبے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وکرم-1 اپنے ساتھ چھ مختلف پے لوڈز لے کر گیا، جن میں ہندوستانی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی تجربات، مصنوعی سیاروں سے متعلق آلات اور دیگر خلائی تجرباتی سامان شامل تھا۔ یہ مشن مستقبل کے تجارتی سیٹلائٹ لانچز کے لیے بھی انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کامیابی پر اسکائی روٹ ایرو اسپیس کی پوری ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک “تاریخی نیا باب” ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سائنس دانوں اور انجینئروں کی صلاحیتوں نے دنیا کے سامنے ہندوستان کی نئی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے شریک بانی اور سی ای او پون کمار چندانا، جو ماضی میں اسرو (ISRO) کے سائنس دان رہ چکے ہیں، نے کہا کہ اس مشن سے حاصل ہونے والا تکنیکی ڈیٹا مستقبل کے تجارتی خلائی مشنز کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانے میں مدد دے گا۔
وکرم-1 کی کامیابی ہندوستان کو عالمی تجارتی خلائی لانچ مارکیٹ میں مضبوط مقام دلانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف نجی خلائی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ چھوٹے مصنوعی سیاروں کی لانچنگ کے عالمی شعبے میں بھی ہندوستان کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔


