“اسمارٹ فون برین” کا خطرہ! نوجوانوں میں دماغی اور اعصابی مسائل میں تشویشناک اضافہ، ماہرین نے خبردار کر دیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ایک وقت تھا جب فالج، پارکنسنز، ڈیمینشیا اور دیگر اعصابی امراض زیادہ تر عمر رسیدہ افراد تک محدود سمجھے جاتے تھے، لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماہرینِ اعصاب (نیورولوجسٹ) کے مطابق اب کم عمر نوجوان، کالج طلبا اور یہاں تک کہ نوعمر بچے بھی سر درد، ذہنی انتشار، توجہ کی کمی، بے خوابی، چکر آنا اور یادداشت کی کمزوری جیسی شکایات کے ساتھ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ہے، جسے وہ “اسمارٹ فون برین” یا “ڈیجیٹل تھکن” (Digital Fatigue) کا نام دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حیدرآباد کے یشودا ہاسپٹلس کے سینئر کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر موہن کرشنا جونالاگڈا کے مطابق مسلسل آنے والے نوٹیفکیشنز، سوشل میڈیا پر لامتناہی اسکرولنگ اور ایک ایپ سے دوسری ایپ پر بار بار منتقل ہونے کی عادت دماغ کو ہر وقت غیر معمولی طور پر متحرک رکھتی ہے۔ اس مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث نوجوان کسی کتاب پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے، نہ ہی دفتر یا کلاس روم میں زیادہ دیر تک یکسوئی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے افراد ہر چند منٹ بعد اپنا فون دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے توجہ اور یادداشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

سی ایم آر آئی اسپتال کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر دیپ داس نے بتایا کہ رات گئے تک موبائل فون استعمال کرنے سے اسکرین سے خارج ہونے والی بلیو لائٹ جسم میں نیند کو کنٹرول کرنے والے میلاٹونن ہارمون کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور مسلسل سر درد جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں تک گردن جھکا کر موبائل استعمال کرنے سے گردن اور کندھوں کے پٹھوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جس کے باعث “ٹیکسٹ نیک” (Text Neck) نامی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف شدید گردن درد اور مائیگرین کا سبب بنتی ہے بلکہ بڑھتے ہوئے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت، ذہنی نشوونما اور سماجی روابط پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔

ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ اسمارٹ فون کا استعمال بذاتِ خود نقصان دہ نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر ضروری استعمال اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے 20-20-20 اصول اپنانے کا مشورہ دیا، جس کے مطابق ہر 20 منٹ اسکرین استعمال کرنے کے بعد 20 سیکنڈ کے لیے تقریباً 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھنا چاہیے تاکہ آنکھوں اور دماغ کو آرام مل سکے۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون کا استعمال بند کر دیا جائے، درست نشست اختیار کی جائے، باقاعدہ ورزش کی جائے اور اگر سر درد، بے خوابی یا توجہ کی کمی جیسے مسائل مسلسل برقرار رہیں تو انہیں نظر انداز کرنے کے بجائے فوراً کسی ماہر نیورولوجسٹ سے رجوع کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں