حیدرآباد (دکن فائلز) قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری آسمانی کلام اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ ہر مسلمان کے نزدیک قرآنِ مجید صرف ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ ایمان، عقیدت اور محبت کا مرکز ہے۔ اس کی تلاوت، حفاظت، تعظیم اور ادب اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآنِ کریم کو پاکیزگی اور احترام کے ساتھ رکھنا، اس کی بے ادبی سے مکمل اجتناب کرنا اور ہر حال میں اس کی حرمت کا خیال رکھنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔
اسی پس منظر میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے قرآنِ مجید کی جلد بندی کے دوران مبینہ بے حرمتی کے الزام میں درج ایک فوجداری مقدمہ خارج کرتے ہوئے اہم قانونی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295A کے تحت کارروائی اسی وقت ممکن ہے جب مذہبی جذبات مجروح کرنے کی جان بوجھ کر، واضح اور بدنیتی پر مبنی نیت ثابت ہو۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں ریاستی یا مرکزی حکومت کی پیشگی منظوری حاصل کرنا قانوناً لازمی ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس این ٹوکارامجی نے ملگی ریڈی سریدھر ریڈی کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔
یہ مقدمہ 24 جنوری 2024 کو اس وقت درج کیا گیا تھا جب ایک شکایت میں الزام لگایا گیا کہ حیدرآباد کے ایک پرنٹنگ اور بائنڈنگ پریس میں جلد بندی کے لیے رکھی گئی قرآنِ مجید کی جلدیں فرش پر مناسب حفاظت کے بغیر موجود تھیں اور ان پر گرد و غبار جمع ہو گیا تھا، جس سے مسلم برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔
شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا اور بعد ازاں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295A کے تحت چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔
ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 196 کے مطابق دفعہ 295A کے تحت کسی بھی مقدمے کا نوٹس لینے سے پہلے حکومت کی پیشگی منظوری لازمی ہے۔ اس شرط کو پورا کیے بغیر مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے کا نوٹس لینا قانونی طور پر درست نہیں۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں، رام جی لال مودی بنام ریاست اتر پردیش اور مہندر سنگھ دھونی بنام یرراگنٹلا شیام سندر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 295A کا اطلاق صرف ان معاملات پر ہوتا ہے جن میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش ثابت ہو۔ محض غفلت، لاپروائی یا غیر ارادی عمل کو اس دفعہ کے تحت جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے تفتیشی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ درخواست گزار نے قرآنِ مجید کی بے حرمتی جان بوجھ کر کی یا مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی نیت رکھی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ قرآنِ مجید کی جلدیں جلد بندی کے عمل کے لیے پریس میں موجود تھیں اور ریکارڈ سے جرم کے لیے ضروری مجرمانہ نیت ثابت نہیں ہوتی۔ ان تمام قانونی نکات کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ حکومت کی لازمی منظوری حاصل نہ کیے جانے اور جرم کے بنیادی عناصر ثابت نہ ہونے کے باعث مقدمہ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
چنانچہ عدالت نے IV ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ، حیدرآبادکی عدالت میں زیرِ سماعت سی سی نمبر 3441/2024کی کارروائی کو منسوخ کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق قرآنِ مجید کی تعظیم اور حفاظت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ علماء کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآنِ کریم کو پاکیزہ جگہ پر رکھا جائے، اس کی طباعت، جلد بندی، نقل و حمل اور استعمال کے ہر مرحلے میں انتہائی احتیاط اور احترام ملحوظ رکھا جائے۔ اگر کہیں کسی قسم کی کوتاہی یا غیر ارادی غفلت سامنے آئے تو اسے سنجیدگی سے دور کرنا اور آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی حرمت ہر حال میں برقرار رہے۔
یہ عدالتی فیصلہ ایک قانونی معاملے سے متعلق ہے، جبکہ قرآنِ مجید کا احترام، اس کی حفاظت اور اس کی تعظیم مسلمانوں کے نزدیک ہر حال میں بنیادی دینی فریضہ اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔


