کانگریس، اپوزیشن اور طلبا کے احتجاج سے دہلی گونج اٹھی، زبردست کشیدگی، مگر مودی حکومت انا کی چادر اوڑھے خاموش؛ پارلیمنٹ کے بعد وزیر اعظم رہائش گاہ تک مارچ، راہل، کھڑگے اور پرینکا کا استعفے کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) دارالحکومت نئی دہلی منگل کے روز اپوزیشن جماعتوں، طلبا تنظیموں اور مختلف سماجی گروپوں کے زبردست احتجاج سے گونج اٹھا۔ نیٹ (NEET-UG) امتحان میں مبینہ پیپر لیک، طلبا پر پولیس لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی جاری بھوک ہڑتال کے خلاف سیاسی اور عوامی غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ پارلیمنٹ کے باہر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ لوک کلیان مارگ تک احتجاجی مارچ کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ دوسری جانب حکومت اپنے مؤقف پر قائم رہی، جس پر اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت انا کی چادر اوڑھے عوامی غصے اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران مرکزی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ نیٹ پیپر لیک، طلبا پر پولیس کارروائی اور حکومت کی مبینہ ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی استعفیٰ دیں۔

کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پیر کے روز “پارلیمنٹ چلو” مارچ میں شریک ہزاروں طلبا پر دہلی پولیس نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور متعدد نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانے کی کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس وزیر اعظم کی رہائش گاہ اس لیے پہنچی ہے تاکہ حکومت سے یہ پوچھ سکے کہ آخر پرامن طلبا کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، لیکن حکومت نہ ان کی بات سننے کو تیار ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس حساس معاملے پر سنجیدہ بحث کرانا چاہتی ہے۔

راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ نیٹ پیپر لیک نے لاکھوں محنتی طلبا کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن حکومت مسلسل اس معاملے سے نظریں چرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس معاملے کی مکمل جوابدہی طے نہیں ہوتی، اپوزیشن اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور وزیر اعظم سمیت ذمہ دار افراد کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔

احتجاج سے قبل راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے رام منوہر لوہیا اسپتال جا کر ان طلبا سے ملاقات کی جو پیر کے روز پولیس کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ کانگریس نے زخمی طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش ملک کے جمہوری نظام کے لیے تشویشناک ہے۔

یہ احتجاج صرف کانگریس تک محدود نہیں رہا بلکہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں طلبا تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج جاری ہے۔ نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کئی ہفتوں سے تحریک چلا رہی ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسی تحریک کے ساتھ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک طلبا کے نمائندوں کو پارلیمنٹ کے اراکین سے ملاقات کا موقع نہیں دیا جاتا یا اراکین پارلیمنٹ خود آکر ان سے بات نہیں کرتے، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پیر کو مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن ہزاروں طلبا “پارلیمنٹ چلو” مارچ کے لیے دہلی پہنچے تھے۔ پولیس نے مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ کر کے مارچ روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد طلبا زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ان مناظر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار عناصر کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں آ چکی ہیں۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن سے پارلیمنٹ میں تعمیری بحث کی اپیل بھی کی۔

تاہم اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ محض بیانات سے طلبا کا اعتماد بحال نہیں ہوگا، بلکہ حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے شفاف تحقیقات، جوابدہی اور متاثرہ طلبا کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ نیٹ پیپر لیک، طلبا پر پولیس کارروائی اور سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے حکومت کو ایک بڑے سیاسی اور اخلاقی امتحان میں لا کھڑا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت عوامی جذبات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مانسون اجلاس کے آغاز ہی میں اس مسئلے پر پیدا ہونے والی کشیدگی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی ماحول کو انتہائی گرم کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ایوان کے اندر بھی بھرپور انداز میں اٹھائے گی اور سڑکوں پر بھی اپنی تحریک جاری رکھے گی، جبکہ حکومت امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کا دفاع کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مزید ہنگامہ آرائی اور سیاسی محاذ آرائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں